دنیاکو نئے سرے زندہ کرے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی شریف اور بھلا مانس اس دلیل پر غور نہیں کرتا کہ قرآن شریف تو خود فرماتا ہے کہ 33 ۱؂ یعنی اے انسانو ! تمہیں معلوم ہو کہ زمین مرچکی تھی اور خدا نئے سرے اب اُس کو زندہ کررہا ہے۔ پس قرآن شریف کا یہی ایک نور تھا جس کے آنے سے پھر دنیا نے توحید کی طرف پلٹا کھایا اور تمام جزیزہ عرب توحید سے بھر گیا اور ممالک ایران کی آتش پرستی بھی دُور ہوگئی پس اے عزیزو ! کچھ تو خدا کا خوف کرو او ر ایسے گُنڈوں اور شُہدوں کی طرح آفتاب پر مت تھوکو جن میں کوئی بھی شرم اور حیا کا مادہ نہیں رہتا۔ قرآن شریف نے تو توریت انجیل کی اصلاح کی اور ان دونوں کتابوں کے نقصان کو پورا کیا تو پھر وہ اُن کی نقل کیونکر ہوگیا؟ ظاہر ہے کہ توریت کی تعلیم یہ تھی کہ دانت کے ؔ بدلہ دانت اور آنکھ کے بدلہ آنکھ اور ناک کے بدلہ ناک اور انجیل کی یہ تعلیم تھی کہ شرکا ہرگز مقابلہ نہ کرو۔ لیکن قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں کو ناقص ٹھہرایا اور فرمایا کہ 33۲؂ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ دراصل بدی کی جزا اُسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی ایسے طور سے اپنے گنہگار کو معاف کرے کہ اس معافی سے اُس کی کچھ اصلاح ہو جائے یعنی وہ معافی اس کے لئے مفید پڑے تو وہ اپنا بدلہ پائے گا۔ ایسا ہی ان دونوں کتابوں کے پیروؤں میں شراب اور قماربازی کی کوئی حد نہیں رہی تھی کیونکہ ان کتابوں میں یہ نقص تھا کہ ان خبیث چیزوں کو حرام نہیں ٹھہرایا اور عیاش لوگوں کو اُن کے استعمال سے منع نہیں کیا تھا اسی وجہ سے یہ دونوں قومیں اس قدر شراب پیتی تھیں کہ جیسے پانی اور قماربازی بھی حد سے زیادہ ہوگئی تھی مگر قرآن شریف نے شراب کو جو اُمُّ الخبائث ہے قطعاً حرام کردیا اور یہ فخر خاص قرآن شریف کو ہی حاصل ہے کہ ایسی خبیث چیز جس کی خباثت پرآج کل تمام یورپ کے لوگ فریاد کراٹھے ہیں وہ قرآن شریف نے ہی قطعاً حرام کردی ایسا ہی قمار بازی کو قطعاً حرام کیا۔