آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جبکہ دنیا خدا کے راہ کو بھول چکی تھی اور جن بیماروں کے لئے آیا اُن کو اس نے چنگا کرکے دکھلا دیا اور نہ توریت اور نہ انجیل وہ اصلاح کرسکی جو قرآن شریف نے کی۔ کیونکہ توریت کی تعلیم پر چلنے والے یعنی یہودی ہمیشہ بار بار بُت پرستی میں پڑتے رہے چنانچہ تاریخ جاننے والے اس پر گواہ ہیں اور وہ کتابیں کیا باعتبار علمی تعلیم کے اور کیا باعتبار عملی تعلیم کے سراسر ناقص تھیں اس لئے اُن پر چلنے والے بہت جلد گمراہی میں پھنس گئے۔ انجیل پر ابھی تیس۳۰ برس بھی نہیں گذرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی یعنی حضرت عیسیٰ خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرادیا کہ ؔ اُن کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے پس کیا یہی کتابیں تھیں جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی بلکہ سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ردّی کی طرح ہوچکی تھیں اوربہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدّل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جبکہ بائبل محرف مبدّل ہوچکی تھی اور جو بائبل کے حامی تھے وہ بقول پادری فنڈل اور دوسرے محقق عیسائیوں کے اس زمانہ میں نہایت درجہ بدچلن ہوچکے تھے اور زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی تھی اور آسمان کے نیچے بجز معصیت اور مخلوق پرستی کے اور کوئی عمل نہ تھا اس طرف آریہ ورت بھی خراب ہوچکا تھا۔ اُس کے لئے پنڈت دیانند کی گواہی ستیارتھ میں کافی ہے اور قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت پیش کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کی بدچلنی اور بداعتقادی اور بدکاری زمین کے رہنے والوں پر محیط ہوگئی تھی تو اب خدا کا خوف کرکے سوچنا چاہئے کہ کیا باوجود جمع ہونے اتنی ضرورتوں کے پھر بھی خدا نے نہ چاہا کہ اپنے تازہ اور زندہ کلام سے