لک درجۃٌ فی السّماءِ وفی الّذین ھُم یُبْصِرون ۔ وَلک
تیرا آسمان پر ایک درجہ اورایک مرتبہ ہے اور نیز اُن لوگوں کی نگہ میں جو دیکھتے ہیں۔ اور تیرے لئے
نُرِیٓ اٰیَات ونھدم ما یعمرون۔ الحمد لِلّٰہِ الّذی
ہم نشان دکھائیں گے اور جو عمارتیں بناتے ہیں ہم ڈھادینگے۔ اُس خدا کی تعریف ہے جس نے تجھے
جعلک المسیح ابن مریم ۔ لا یُسئلُ عمّا یَفْعَلُ وھم
مسیح ابن مریم بنایا۔ وہ اُن کاموں سے پوچھا نہیں جاتا جو کرتا ہے۔ اور لوگ اپنے کاموں سے
یُسْءَلون*۔وَقالُوا اَتَجْعَلُ فیھا من یُّفْسِد فِیْھا
پوچھے جاتے ہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ کیا تُو ایسے شخص کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد کرتا ہے۔
قال اِنّی اعلمُ مَا لا تعلمون ۔ انّی مھین مَنْ اراد
اُس نے کہا کہ اسکی نسبت جو کچھ مَیں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ مَیں اُس شخص کی اہانت کرونگا جو تیری
اھانتک۔ انّی لا یخاف لدیّ المرسلون ۔ کتب اللّٰہ
اہانت کا ارادہ کریگا۔ میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈراکرتے۔ خدا نے لِکھ چھوڑا ہے کہ
خدا تعالیٰ کا پاک کلام جو میری کتاب براہین احمدیہ کے بعض مقامات میں لکھا گیا ہے اس میں خدا تعالیٰ نے بتصریح ذکر کر دیا ہے کہ کس طرح اُس نے مجھے عیسیٰ بن مریم ٹھہرایا۔ اس کتاب میں پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور بعد اس کے ظاہر کیا کہ اس مریم میں خدا کی طرف سے روح پُھونکی گئی اور پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد مریمی مرتبہ عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔ پھر دوسرے مقام میں اسی مرتبہ کے متعلق فرمایا فاجاء ہ المخاض الٰی جذع النخلۃ ۔ قال یا لیتنی متّ قبل ھٰذا وکنت نسیًامَّنسیًّا۔ اس جگہ خدا تعالیٰ ایک استعارہ کے رنگ میں فرماتا ہے کہ جب اس مامور میں مریمی مرتبہ سے عیسوی مرتبہ کا تولّد ہوا اور اس لحاظ سے یہ مامور ابن مریم بننے لگا تو تبلیغ کی ضرورت جو دردِ زہ سے مشابہت رکھتی ہے اس کو اُمّت کی خشک جڑ کے سامنے لائی جن میں فہم اور تقویٰ کا پھل نہیں تھا اور وہ طیار تھے کہ ایسا دعویٰ سُن کر افترا کی تہمتیں لگاویں اور دُکھ دیں اور طرح طرح کی باتیں اُسکے حق میں کریں تب اُس نے اپنے دل میں کہا کہ کاش مَیں پہلے اس سے مرجاتا اور ایسا بُھولا بسرا ہو جاتا کہ کوئی میرے نام سے واقف نہ ہوتا۔ منہ
** اس وحی الٰہی میں خدا نے میرا نام رسل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیا علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ مَیں آدم ہوں مَیں شیث ہوں مَیں نوح ہوں مَیں ابراہیم ہوں مَیں اسحٰق ہوں مَیں اسمٰعیل ہوں مٰں یعقوب ہوں مَیں یوسف ہوں مَیں موسٰی ہوں مَیں داؤد ہوں مَیں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مَیں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔ منہ