بِسْمِ اللهِ الرَّحْمـٰنِ الرَّحِيمِ
یا احمد بارک اللّٰہ فیکَ ۔ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ
اے احمد خدانے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ تُو نے چلایا وہ تُونے نہیں چلایا
وَلٰکِنَّ اللّٰہ رَمٰی ۔ الرَّحْمٰن ۔ عَلّمَ القراٰن ۔ لِتُنْذِرَ
بلکہ خدانے چلایا۔ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے۔ تاکہ
قَوْمًا مَا اُنْذِرَ اٰبَاءُ ھُمْ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ
تو اُن لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تاکہ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم
المجرمین ۔ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَانا اوّل المؤمنین ۔
ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔ کہہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں
قل جاء الحقّ وزھق الباطل اِنّ البَاطِلَ کَانَ زھُوقًا۔
کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔
کُلُّ برکۃٍ من محمّد صلی اللّٰہ علیہ وسلّم ۔
ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔
فتبارک من علّم وتعلّم۔ وقالوا ان ھٰذا اِلّا
پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی
اختلاق ۔قل اللّٰہ ثمّ ذرھم فی خوضہم یلعبون ۔
طرف سے بنائے ہیں۔ اُن کو کہہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے پھر اُن کو لہوو لعب کے خیالات میں چھوڑ دے
قل ان افتریتُہٗ فعلیّ اجرام شدید ۔
اُن کو کہہ اگر یہ کلمات میرا افترا ہے اور خدا کا کلام نہیں تو پھرمَیں سخت سزا کے لائق ہوں۔