نشان اِس قسم کے ہیں کہ ہزار ہا انسانوں نے محض اِس وجہ سے میری بیعت کی کہ خواب میں اُن کو بتلایا گیا کہ یہ سچا ہے اور خدا کی طرف سے ہے اور بعض نے اِس وجہ سے بیعت کی کہ آنحضرت کو خواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا کہ دنیا ختم ہونے کو ہے اور یہ خدا کا آخری خلیفہ اور مسیح موعود ہے۔ اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جو بعض اکابر نے میری پیدائش یا بلوغ سے پہلے میرا نام لے کر میرے مسیح موعود ہونے کی خبر دی جیسے نعمت اللہ ولی اور میاں گلاب شاہ ساکن جمالپور ضلع لدھیانہ اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جن کا دامن ہر ایک قوم کے مقابل پر اور ہر ایک ملک تک اور ہر ایک زمانہ تک وسیع چلا گیا ہے اور وہ سلسلہ مباہلات ہے جس کے بہت سے نمونے دنیا نے دیکھ لئے* ہیں اور مَیں کافی مقدار دیکھنے کے بعد مباہلہ کی رسم کو اپنی طرف سے ختم کر چکا ہوں لیکن ہر ایک جو مجھے کذّاب سمجھتا ہے اور ایک مکّار اور مُفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعویٰ مسیح موعود کے بارہ میں میرا مکذّب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی اُس کو میرا افترا خیال کرتا ہے۔ وہ خواہ مسلمان کہلاتا ہو یا ہندو یا آریہ یا کسی اورمذہب کا پابند ہو۔ اُس کو بہرحال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے یہ اقرار چند اخباروں میں شائع کرے کہ مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص (اس جگہ تصریح سے میرا نام لکھے) جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے در حقیقت کذّاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اُس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ ؔ خداکا کلام نہیں ہے بلکہ سب اُس کا افترا ہے اور مَیں اُس کو درحقیقت اپنی کامل بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذّاب اور دجّال سمجھتا ہوں۔ پس
* ہر ایک منصف مولوی غلام دستگیر قصوری کی کتاب کو دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ کس طرح اُس نے اپنے طور پر میرے ساتھ مباہلہ کیا اور اپنی کتاب فیض رحمانی میں اس کو شائع کر دیا اور پھر اس مباہلہ سے صرف چند روز بعد فوت ہو گیا اور کس طرح چراغدین جموں والے نے اپنے طور سے مباہلہ کیا اور لکھا کہ ہم دونوں میں سے جھوٹے کو خدا ہلاک کرے۔ اور پھر اس سے صرف چند روز بعد طاعون سے مع اپنے دونوں لڑکوں کے ہلاک ہو گیا۔منہ