اب مَیں بموجب آیۃ کریمہ 3۱؂ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اُس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شِکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے میری تائید میں اُس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶؍جولائی۱۹۰۶ء ہے۔ اگر مَیں اُن کو فردًا فردًا شمار کروں تو مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو مَیں اُس کو ثبوت دے سکتا ہوں۔ بعض نشان اِس قِسم کے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک محل پر اپنے وعدہ کے موافق مجھ کو دشمنوں کے شرّ سے محفوظ رکھا۔ اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جن میں ہرمحل میں اپنے وعدہ کے موافق میری ضرورتیں اور حاجتیں اُس نے پوری کیں اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جن میں اُس نے بموجب اپنے وعدہ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کے میرے پر حملہ کرنے والوں کو ذلیل اور رُسوا کیا اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جو مجھ پر مقدمہ دائر کرنے والوں پر اُس نے اپنی پیشگوئیوں کے مطابق مجھ کو فتح دی اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جو میری مدّتِ بعث سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے یہ مُدّت دراز کسی کا ذب کو نصیب نہیں ہوئی اور بعض نشان زمانہ کی حالت دیکھنے سے پیدا ہوتے ہیں یعنی یہ کہ زمانہ کسی امام کے پیدا ہونے کی ضرورت تسلیم کرتا ہے اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جن میں دوستوں کے حق میں میری دُعائیں منظور ہوئیں اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جو شریر دشمنوں پر میرؔ ی بد دعاکا اثر ہوا اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جو میری دعاسے بعض خطرناک بیماروں نے شفاپائی اور اُن کی شفا کی پہلے خبر دی گئی۔ اور بعض نشان اِس قسم کے ہیں جومیرے لئے اور میری تصدیق کے لئے عام طور پر خدا نے حوادث ارضی یا سماوی ظاہر کئے اور بعض نشان اس قسم کے ہیں جو میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے ممتاز لوگوں کو جو مشاہیر فقراء میں سے تھے خوابیں آئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا جیسے سجادہ نشین صاحب العَلم سندھ جن کے مُرید ایک لاکھ کے قریب تھے اور جیسے خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں والے اور بعض