پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تو کسب اور سلوک کی ہم نے ایک مثال بیان کی ہے لیکن بعض اشخاص ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کے مدارج میں کسب اور سلوک اور مجاہدہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ اُن کی شِکم مادر میں ہی ایک ایسی بناوٹ ہوتی ہے کہ فطرتًا بغیر ذریعہ کسب اور سعی اور مجاہدہ کے وہ خدا سے محبت کرتے ہیں۔ اور اُس کے رسول یعنی حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا ان کو رُوحانی تعلق ہو جاتا ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور پھر جیسا جیسا اُن پر زمانہ گذرتا ہے وہ اندرونی آگ عشق اور محبت الٰہی کی بڑھتی جاتی ہے اور ساتھ ہی محبت رسول کی آگ ترقی پکڑتی ہے اور اِن تمام اُمور میں خدا اُن کا متولّی اور متکفّل ہوتا ہے اور جب وہ محبت اور عشق کی آگ انتہا تک پہنچ جاتی ہے۔ تب وہ نہایت بیقراری اور دردمندی سے چاہتے ہیں کہ خدا کا جلال زمین پر ظاہر ہو اور اسی میں اُن کی لذّت اور یہی اُن کا آخری مقصد ہوتا ہے۔ تب اُن کے لئے زمین پر خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کسی کے لئے اپنے عظیم الشان نشانؔ ظاہر نہیں کرتا اور کسی کو آئندہ زمانہ کی عظیم الشان خبریں نہیں دیتا۔ مگر اُنہیں کو جو اُس کے عشق اور محبت میں محو ہوتے ہیں اور اُس کی توحید اور جلال کے ظاہر ہونے کے ایسے خواہاں ہوتے ہیں جیسا کہ وہ خود ہوتا ہے۔ یہ بات اُنہیں سے مخصوص ہے کہ حضرت اُلوہیت کے خاص اسرار اُن پر ظاہر ہوتے ہیں اور غیب کی باتیں کمال صفائی سے اُن پر منکشف کی جاتی ہیں اور یہ خاص عزّت دوسرے کو نہیں دی جاتی۔ شاید ایک نادان خیال کرے کہ بعض عام لوگوں کو کبھی کبھی سچی خوابیں آجاتی ہیں۔ بعض مرد یا عورتیں دیکھتے ہیں کہ کسی کے گھر میں لڑکی یا لڑکا پیدا ہوا تو وہی پیدا ہوجاتا ہے اور بعض کو دیکھتے ہیں کہ وہ مر گیا تو وہ مر بھی جاتا ہے یا بعض ایسے ہی چھوٹے چھوٹے واقعات دیکھ لیتے ہیں تو وہ ایسے ہی ہو جاتے ہیں۔ تو مَیں اِس وسوسہ کا پہلے ہی جواب دے آیا ہوں کہ ایسے واقعات کچھ چیز ہی نہیں ہیں اور نہ کسی نیک بختی کی اِن میں شرط ہے۔ بہت سے خبیث طبع اور بدمعاش بھی ایسی خوابیں اپنے لئے یا کسی اور کیلئے دیکھ لیتے ہیں لیکن وہ امور جو خاص طور