جو اُن کے ہاتھوں پر ہے۔ اب ان تمام آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ٹھہرایا گیا مگر ظاہر ہے کہ وہ خدا کا ہاتھ نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک جگہ فرمایا۔ 3 ۱؂ پس تم خدا کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو۔ پس اِس جگہ خدا تعالیٰ کو باپ کے ساتھ تشبیہ دی اور استعارہ بھی صرف تشبیہ کی حد تک ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ نے یہودیوں کا ایک قول بطور حکایت عن الیھود قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے اور وہ قول یہ ہے کہ 3 ۲؂ یعنی ہم خدا کے بیٹے اور اُس کے پیارے ہیں۔ اِس جگہ ابناء کے لفظ کا خدا تعالیٰ نے کچھ ردّ نہیں کیا کہ تم کُفر بکتے ہو بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم خدا کے پیارے ہو تو پھر وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے اور ابناء کا دوبارہ ذکر بھی نہیں کیا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کی کتابوں میں خدا کے پیاروں کو بیٹاؔ کرکے بھی پکارتے تھے۔ اب اِس تمام بیان سے ہماری غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کسی کے ساتھ پیار کرنا اِس بات سے مشروط کیا ہے کہ ایسا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے۔* چنانچہ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے۔ اِس طرح پر کہ خود اُس کے دل میں محبتِ الٰہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔ تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جُھک جاتا ہے اور اُس کا اُنس و شوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے تب محبتِ الٰہی کی ایک خاص تجلّی اُس پر پڑتی ہے اور اُس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قوی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تب جذباتِ نفسانیہ پر وہ غالب آجاتا ہے اور اُس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک * اگر کوئی کہے کہ غرض تو اعمال صالحہ بجا لانا ہے تو پھر ناجی اورمقبول بننے کیلئے پیروی کی کیا ضرورت ہے اِس کا جواب یہ ہے کہ اعمالِ صالحہ کا صادر ہونا خدا تعالیٰ کی توفیق پر موقوف ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ نے ایک کو اپنی عظیم الشان مصلحت سے امام اور رسول مقرر فرمایا اور اُس کی اطاعت کے لئے حکم دیا تو جو شخص اس حکم کو پاکر پیروی نہیں کرتا اُس کو اعمال صالحہ کی توفیق نہیں دی جاتی۔منہ