ہے تو اُس میں اور ایک بُت میں فرق کیا ہے۔ زندہ خدا کی علامات چاہئیں۔ اور اگر وہ ہمارے سوال کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ کوئی قدرت دکھلا سکتا ہے تو کیونکر معلوم ہو کہ وہ موجود ہے۔ صرف اپنی خود تراشیدہ باتوں سے کیونکر اُس کی ہستی ثابت ہو جبکہ ہر ایک انسان اپنی زندگی ثابت کرنے کا آپ ذمہ وار ہے تو پھر کیا وجہ کہ خدا اپنی زندگی ثابت نہیں کرسکتا۔ کیا خدا انسان سے بھی زیادہ کمزور ہے یا کیا اُس کی قُدرت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔ اور اگر اب اُس میں کلام کرنے کی طاقت باقی نہیں رہی تو اس پر کیا دلیل ہے کہ پہلے وہ طاقت موجود تھی اور اگر وہ اِس زمانہ میں بول نہیں سکتا تو اِس پر کیا دلیل ہے کہ وہ اِس زمانہ میں سُن سکتا ہے اور دعائیں قبول کرسکتا ہے اور اگر کسی زمانہ میں اُس نے اپنی قدرتیں ظاہر کی ہیں تو اب کیوں ظاہر نہیں کر سکتا تادہریوں کے مُنہ میں خاک پڑے۔ پس اے عزیزو! وہ قادر خدا جس کی ہم سب کو ضرورت ہے وہ اِسلام نے پیش کیا ہے اِسلام خدا کی قدرتوں کو ایسا ہی پیش کرتا ہے جیسا کہ وہ پہلے ظہور میں آئی تھیں یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ بغیر اِس کے کہ خدا کی قدرتیں اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان ظاہر ہوں کوئی شخص خدا پر ایمان نہیں لا سکتا یہ سب جھوٹے قصّے ہیں کہ ہم پرمیشر پر ایمان لائے ہیں خدا کی شناخت کرانے والے اس کے نشان ہیں اور اگر نشان نہیں تو خدا بھی نہیں۔ پس اِس لئے مَیں نے نمونہ کے طور پر محض ہمدردی کی راہ سے کتاب حقیقۃ الوحی کوتالیف کیا ہے اور مَیں آپ لوگوں کو اُس پرمیشر کی قسم دیتا ہوں جس پر ایمان لانا آپ لوگ اپنی زبان سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ اوّل سے آخر تک میری اس کتاب کو پڑھو اور ان نشانوں پر غور کرو جواِس میں لکھے گئے ہیں پھر اگر اپنے مذہب میں اِس کی نظیر نہ پاؤ تو خدا سے ڈر کر اِس مذہب کو چھوڑ دو اَور اسلام کو قبول کرو۔ وہ مذہب کِس کام کا ہے اور کیا فائدہ دے گا جو زندہ خدا تک زندہ نشانوں کے ساتھ رہبری نہیں کر سکتا۔ پھر مَیں آپ لوگوں کو اُسی پرمیشر کی دوبارہ قسم دیتا ہوں کہ ضرور ایک مرتبہ میری اِس کتاب حقیقۃ الوحی کو اوّل سے آخر تک پڑھو اور سچ کہو کہ کیا آپ لوگ اپنے مذہب کی پابندی سے اُس زندہ خدا کو شناخت کر سکتے ہیں۔ پھر مَیں تیسری مرتبہ اُسی پرمیشر کی قسم دیتا ہوں کہ دنیا ختم ہونے کو ہے اور خدا کا قہر ہر طرف نمودار ہے ایک مرتبہ اوّل سے آخر تک میری کتاب حقیقۃ الوحی کو ضرور پڑھ لو۔ خدا تمہیں ہدایت کرے۔ موت کا اعتبار نہیں۔ خدا وہی خدا ہے جو زندہ خدا ہے۔ والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔
المشتہر۔ میرزا غلام احمد مسیح موعود قادیانی