بِسْمِ اللهِ الرَّحْمـٰنِ الرَّحِيمِ
نَحْمَدُہٗ ونُصَلِّی
بخدمت آریہ صاحبان
کوئی عقل مند اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ جو خُدا کی طرف سے شریعت ہے اس کے قدیم سے دو ہی ٹکڑے ہوتے آئے ہیں۔
(۱) بڑا اور پہلا ٹکڑا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اُس کی تمام صفات کاملہ کے ساتھ واحد لاشریک مان لیا جائے اَور اُس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہ ٹھہرایا جائے اور اِس بات پر ایمان لایا جائے کہ وہ مبدء ہے تمام فیوض کا اور سر چشمہ ہے تمام ظہورات کا اور خالق ہے ہر ایک وجود کا اور قادر ہے ہر ایک ایسے امر پر جو اُس کی عظمت اور شان اور جلال کے لائق ہے اور اس کے صفات کاملہ کے منافی نہیں اور اوّل ہے ہر ایک موجود سے اور مرجع ہے تمام کائنات کا اور مستجمع ہے تمام صفات کاملہ کا اور پاک ہے اِس سے کہ کسی وقت صفات اس کی بے کار ہو جائیں یا یہ کہ کسی وقت بے کار تھیں۔ وہ قدیم سے خالق اور قدیم سے رازق اور قدیم سے قادر ہے۔ کسی کو علم نہیں کہ پہلے اُس نے کیا کیا اور آگے کیا کیا کرے گا اُس کی قُدرتوں پر کوئی محیط نہیں ہو سکتا اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور اپنی صفات میں اور افعال میں اور اُس کی طرح کوئی بھی کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں۔ اور پاک ہے ہر ایک عیب اور نقص سے اور نزدیک ہے باوجود دُوری کے اور دور ہے باوجود نزدیکی کے۔ وہ بر تر اور بلند ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور بھی ہے۔ وہ پوشیدہ در پوشیدہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ ظاہر نہیں وہ اپنے ظہور میں سب سے زیادہ ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ پوشیدہ نہیں وہ آفتاب میں چمک رہا ہے اور چاند میں اس کے انوار ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ آفتاب ہے یا چاند ہے بلکہ یہ سب چیزیں اُس کی مخلوق ہیں اورکافر ہے وہ شخص جو اُس کو خدا کہے وہ نہاں در نہاں ہے پھر بھی سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے۔ ہر ایک روح کو اُسی سے قوتیں اور صفات ملی ہیں۔ ہر ایک ذرّہ نے اُسی سے خواص پائے ہیں اور اگر وہ صفات اور قوتیں اور طاقتیں چھین لی جائیں تو پھر نہ رُوح کچھ چیز ہے اور نہ ذرّہ کچھ حقیقت رکھتا ہے اِس لئے انسان کی معرفت کا انتہائی نقطہ یہی ہے کہ یہ سب چیزیں