عذاب کا نشانہ ہوا اور کون سا ایسا کذّاب گذرا ہے جس کے لئے اور جس کی پیشگوئی کی رُو سے رمضان میں خسوف کسوف ہوا اور زمین میں ایک عالمگیر طاعون پھیل گیا۔ کیا کسی اور مہدی کانشان ملتا ہے جس نے کسوف خسوف سے پندرہ۱۵ برس پہلے اس کے وقوع کی خبر دی تھی اور طاعون سے چھبیس۲۶ برس پہلے اور پھر بارہ۱۲ برس پہلے اور پھر تین برس پہلے ملک میں اس کے پھیلنے کی سہ۳ بارہ اطلاع دے دی تھی۔ ابؔ اِس وقت اِس تحریر سے میری غرض یہ ہے کہ مَیں نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں کافی طور پر ہر ایک قسم کا ثبوت اپنے دعویٰ کے متعلق لکھ دیا ہے اور باوجود اِس کے کہ مَیں اِن ایّام میں بباعث طرح طرح کے عوارض جسمانی اور بیماریوں کے متواتر دَورے اور ضعف اورناتوانی کے اِس لائق نہ تھا کہ اِس قدر سخت محنت اُٹھا سکوں تاہم مَیں نے محض بنی نوع کی ہمدردی کے لئے یہ تمام محنت اُٹھائی۔ اِس لئے مَیں اپنی عزیز قوم کے اکابر علماء اور مشائخ اور اُن سب کو جو اِس کتاب کو پڑھ سکتے ہیں خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر اُن کو یہ کتاب پہنچے تو ضرور اوّل سے آخر تک اِس کتاب کو غور سے پڑھ لیں اور مَیں پھر اُن کو اس خدائے لاشریک کی دوبارہ قسم دیتا ہوں جس کے ہاتھ میں ہر ایک کی جان ہے کہ وہ اپنے اوقات اور مشاغل کا حرج بھی کرکے ایک دفعہ غور اور تدبّر سے اِس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ لیں۔ اور پھر مَیں تیسری دفعہ اُس غیّور خدا کی اُن کو قسم دیتا ہوں جو اُس شخص کو پکڑتا ہے جو اُس کی قسموں کی پروا نہیں کرتا کہ ضرور ایسے لوگ جن کو یہ کتاب پہنچے اور وہ اِس کو پڑھ سکتے ہوں خواہ وہ مولوی ہیںیا مشائخ، اوّل سے آخر تک ایک مرتبہ اِس کو ضرور پڑھ لیں اور مَیں انشاء اللہ بعض کو تو خود یہ کتاب بھیج دُوں گا اور بعض دیگر کی نسبت مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر وہ قسم کھا کر لکھیں کہ قیمت کے ادا کرنے کی گنجائش نہیں تو مَیں بشرط گنجائش اور بشرط موجود ہونے کتاب کے ضرور اُن کو اِس شرط سے کتاب بھیج دوں گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کرمیری طرف تحریرکریں کہ وہ اوّل سے آخر تک ضرور کتاب کو پڑھیں گے اور نیز