بالآخر ہم اس خاتمہ میں چند امور ضرور یہ بیان کرکے اس رسالہ کو ختم کرتے ہیں۔ از انجملہ ایک یہ کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان اپنے رسالہ المسیح الدجال وغیرہ میں میرے پر یہ الزام لگاتا ہے کہ گویا میں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص میرے پر ایمان نہیں لائے گا گو وہ میرے نام سے بھی بے خبر ہوگا اور گو وہ ایسے ملک میں ہوگا جہاں تک میری دعوت نہیں پہنچی تب بھی وہ کافر ہو جائے گا اور دوزخ میں پڑے گا۔ یہ ڈاکٹر مذکور کا سراسر افترا ہے میں نے کسی کتاب یا کسی اشتہار میں ایسا نہیں لکھا۔ اُس پر فرض ہے کہ وہ ایسی کوئی میری کتاب پیش کرے جس میں یہ لکھا ہے۔ یاد رہے کہ اُس نے محض چالاکی سے جیسا کہ اُس کی عادت ہے یہ افترا میرے پر کیا ہے۔ یہ تو ایسا امر ہے کہ ببداہت کوئی عقل اس کو قبول نہیں کر سکتی جو شخص بکلّی نام سے بھی بے خبر ہے اُس پر مؤاخذہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ ہاں میں یہ کہتا ہوں کہ چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طورپر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں۔ پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پا چکا ہے وہ قابل مؤاخذہ ہوگا کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ مُنہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اُس پر کوئی گرفت نہ ہو۔ اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میرا نہیں بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی۔ ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بارہ میں بھی یہی ہے کہ ہر ایک اُمت سے بذریعہ اُن کے نبی کے یہ عہد لیا گیا تھا کہ جب حضرت خاتم الانبیاءؑ پیدا ہوں تو اُن پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور پھر اس پر ایک اور دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوت اسلام کے خط اس وقت کے عیسائی بادشاہوں کی طرف لکھے تھے یعنی قیصر اور مقوقسؔ اور حبش کے بادشاہ کی طرف اس میں اَسْلِم8 تَسْلِم کا لفظ تھا۔ یعنی اسلام لا۔ اس سے تو سلامت رہے گا۔ حالانکہ بعض اُن عیسائی بادشاہوں میں سے موحد تھے۔ تثلیث کے قائل نہ تھے اور یہ ثابت شدہ امر ہے اور یہودی بھی تثلیث کے قائل نہ تھے پھر ان کو اسلام کی دعوت کیا معنے رکھتی تھی۔ وہ تو پہلے ہی اسلام میں داخل تھے۔ منہ