غرض یہ امر سوچنے کے لائق ہے کہ صرف دو پیشگوئیوں پر اُن کا اتنا ماتم اور سیاپا ہے۔ مگر اس جگہ ہزار ہا پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں اور کئی لاکھ انسان ان کے گواہ ہیں۔ اگر ان کو خدا کا خوف ہے تو کیوں اُن سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ اس طرح تو یہودی بھی اب تک لکھتے ہیں کہ اکثر پیشگوئیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پوری نہیں ہوئیں جیسا کہ بار ہ ۲۱ حواریوں کے ۱۲با رہ تختوں کی پیشگوئی اور اُسی زمانہ میں اُن کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی وغیرہ ۔*
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حجت تمام دنیا پر پوری ہو چکی ہے اور آپ کے انوار سورج سے زیادہ چمک رہے ہیں۔ پھر انکار کے ساتھ نیک نیتی کیونکر جمع ہو سکتی ہے اور جس شخص سے یہ بد عملی ظہور میں آئے کہ ایک کھلی کھلی سچائی کو رد کیا اُس کی نسبت ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ ؔ نیک اعمال بجا لاتا ہے۔ تیرہ سو برس سے یہ منادی ہو رہی ہے اور ہزار ہا اہل کرامات و خوارق اپنے اپنے زمانہ میں حجت پوری کر گئے ہیں۔ پس کیا اب تک حجت پوری نہیں ہوئی۔ آخر منکر کسی حد تک معذور ہونے کے لائق ہوتا ہے نہ کہ ہزارہا معجزات اور خوارق اور خدا کے نشان دیکھ کر اور تعلیم کو عمدہ پاکر اور خالص توحید اسلام میں ژ دیکھ کر پھر کہتا جائے کہ’’ ابھی میری تسلی نہیں ہوئی‘‘۔ء
حضرت موسیٰ کی توریت میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں پہنچائیں گے مگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی حضرت موسیٰ بھی راہ میں فوت ہوئے اور بنی اسرائیل بھی راہ میں ہی مر گئے صرف اولاد اُ ن کی وہاں گئی۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ کی پیشگوئی کہ بارہ ۲۱ تخت اُن کے حواریوں کو ملیں گے وہ پیشگوئی بھی غلط نکلی۔ اب موسیٰ اور عیسیٰ دونوں کی نبوت سے دستبردار ہو جاؤ۔ سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں قد یوعد ولا یوفٰی یعنی کبھی وعدہ دیا جاتا ہے اور اُس کا ایفا نہیں ہوتا۔ پھر وعید کی شرطی پیشگوئیوں پر اس قدر شور مچا ناکس قدر بے علمی پر دلالت کرتا ہے۔ منہ
ژ افسوس عبد الحکیم خان ایک اور کھلی کھلی ضلالت میں پھنسا ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اسلام کے مفہوم میں یہ امر داخل نہیں ہے کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے حالانکہ تمام مسلمانوں کے اتفاق سے اسلام تمام نہیں ہوتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لایا جائے۔ اسی وجہ سے قرآن شریف فرماتا ہے کہ
ء اہل یورپ کو کیونکر ہم بے خبر کہہ سکتے ہیں جنہوں نے قرآن شریف کے ترجمے کرکے شائع کئے اور آپ تفسیریں لکھیں اور حدیث کی بڑی بڑی کتابوں کے ترجمے کئے اور لغت عرب کی بڑی بڑی کتابیں تالیف کیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اسلام کے کتب خانے یورپ میں موجود ہیں اس قدر مسلمانوں کے ہاتھ میں وہ کتابیں موجود نہیں۔ منہ