فضلؔ اور بزرگی کے میری نبوت سے انکار کرے۔ پس صبح ہوتے ہی ابو الخیر مسلمان ہو گیا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ خلاصہ یہ کہ میں اِس بات کو بالکل سمجھ نہیں سکتا کہ ایک شخص خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے اور اُس کو واحد لا شریک سمجھے اور خدا اُس کو دوزخ سے تو نجات دے مگر نابینائی سے نجات نہ دے حالانکہ نجات کی جڑھ معرفت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 3۱؂ ۱؂ ۔ یعنی جو شخص اِس جہان میں اندھا ہے وہ دُوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا یا اِس سے بھی بد تر۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ جس نے خدا کے رسولوں کو شناخت نہیں کیا اُس نے خدا کو بھی شناخت نہیں کیا۔ خدا کے چہرے کا آئینہ اُس کے رسول ہیں۔ ہر ایک جو خدا کو دیکھتا ہے اسی آئینہ کے ذریعہ سے دیکھتا ہے۔ پس یہ کس قسم کی نجات ہے کہ ایک شخص دنیا میں تمام عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذّب اور منکر رہا اور قرآن شریف سے انکاری رہا اور خدا تعالیٰ نے اُس کو آنکھیں نہ بخشیں اور دل نہ دیا اور وہ اندھا ہی رہا اور اندھا ہی مر گیا اور پھر نجات بھی پا گیا۔ یہ عجیب نجات ہے ! اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جس شخص پر رحمت کرنا چاہتا ہے پہلے اُس کو آنکھیں بخشتا ہے اور اپنی طرف سے اُس کو علم عطا کرتا ہے۔ صدہا آدمی ہمارے سلسلہ میں ایسے ہوں گے کہ وہ محض خواب یا الہام کے ذریعہ سے ہماری جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی ذات وسیع الرحمت ہے اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف آتا ہے تو وہ دو قدم آتا ہے۔ اور جو شخص اُس کی طرف جلدی سے چلتا ہے تو وہ اُس کی طرف دوڑتا آتا ہے اور نابینا کی آنکھیں کھولتا ہے۔ پھر کیونکر قبول کیا جائے کہ ایک شخص اُس کی ذات پر ایمان لایا اور سچے دل سے اُس کو وحدہٗ لاشریک سمجھا اورو اپس سے محبت کی اور اس کے اولیاء میں داخل ہوا۔ پھر خدا نے اُس کو نابینا رکھا اور ایسا اندھا رہا کہ خدا کے نبی کو شناخت نہ کر سکا۔ اسی کی مؤید یہ حدیث ہے کہ من مات ولم یعرف امام زمانہٖ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ یعنی جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیت کی موت پر مر گیا اور صراطِ مستقیم سے بے نصیب رہا۔