مثالیںؔ پائی جاتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا کریم و رحیم ہے اگر کوئی ایک ذرّہ بھی نیکی کرے تب بھی اُس کی جزا میں اسلام میں اُس کو داخل کر دیتا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں بھی ہے کہ کسی صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ میں نے کُفر کی حالت میں محض خدا تعالیٰ کے خوش کرنے کے لئے بہت کچھ مال مساکین کو دیا تھا۔ کیا اس کا ثواب بھی مجھ کو ہوگا۔ تو آپ نے فرمایا کہ وہی صدقات ہیں جو تجھ کو اسلام کی طرف کھینچ لائے۔ پس اِسی طرح جو شخص کسی غیر مذہب میں خدا تعالیٰ کو واحد لا شریک جانتا ہے اور اُس سے محبت کرتا ہے تو خدا تعالیٰ بموجب آیت 3 ۱؂ آخر اُس کو اسلام میں داخل کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ باوانانک کو پیش آیا۔ جب اُس نے بڑے اخلاص سے بُت پرستی کو چھوڑ کر توحید کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ سے محبت کی تو وہی خدا جس نے آیت ممدوحہ بالا میں فرمایا ہے 3 اُس پر ظاہر ہوا اور اپنے الہام سے اسلام کی طرف اُس کو رہبری کی تب وہ مسلمان ہو گیا اور حج بھی کیا۔ اورکتاب بحر الجواہر میں لکھا ہے کہ ابو الخیر نام ایک یہودی تھا جو پارسا طبع اور راستباز آدمی تھا۔ اور خدا تعالیٰ کو واحد لا شریک جانتا تھا۔ ایک دفعہ وہ بازار میں چلا جاتاتھا تو ایک مسجد سے اُس کو آواز آئی کہ ایک لڑکا قرآن شریف کی یہ آیت پڑھ رہا تھا:۔ 3۔ 3 ۔ ۲؂ یعنی کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ یونہی وہ نجات پا جاویں گے صرف اس کلمہ سے کہ ہم ایمان لائے۔ اور ابھی خدا کی راہ میں اُن کا امتحان نہیں کیا گیا کہ کیا ان میں ایمان لانے والوں کی سی استقامت اور صدق اور وفا بھی موجود ہے یا نہیں؟ اِس آیت نے ابو الخیر کے دل پر بڑا اثر کیا اور اُس کے دل کو گداز کر دیا۔ تب وہ مسجد کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہوکر زار زار رویا۔ رات کو حضرت سیّدنا و مولانامحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی خواب میں آئے اور فرمایا یا اباالخیر اعجبنی ان مثلک مع کمال فضلک ینکر بنبوّتی۔ یعنی اے ابو الخیرمجھے تعجب آیا کہ تیرے جیسا انسان باوجود اپنے کمال