طرح وہ فصیح اور کثیر المقدار باتوں پر قادر نہیں ہو سکتا صرف ایک بد بو دار پیرایہ میں فقرہ دوفقرہ دل میں ڈال دیتا ہے۔ اس کو ازل سے یہ توفیق ہی نہیں دی گئی کہ لذیذ اور باشوکت کلام کر سکے اور یا چند گھنٹہ تک سلسلہ کلام کا سوالات کے جواب دینے میں جاری رکھ سکے۔ اور وہ بہرہ بھی ہے ہر ایک سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ اور وہ عاجز بھی ہے اپنے الہامات میں کوئی قُدرت اور اعلیٰ درجہ کی غیب گوئی کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا۔* اور اُس کا گلا بھی بیٹھا ہوا ہے پُر شوکت اور بلند آواز سے بول نہیں سکتا۔ مخنثوں کی طرح اُس کی آواز دھیمی ہے انہیں علامات سے شیطانی وحی کو ؔ شاخت کر لوگے۔ لیکن خدا تعالیٰ گُنگے اور بہرے اور عاجز کی طرح نہیں وہ سنتا ہے اور برابر جواب دیتا ہے اور * یہ سوال کہ آیا شیطانی خواب یا الہام میں کوئی غیبی خبر ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ شیطانی خواب یا الہام میں جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہرہوتا ہے کبھی خبر غیب تو ہو سکتی ہے مگر وہ تین۳ علامتیں اپنے ساتھ رکھتی ہے (۱) اوّل یہ کہ وہ غیب کوئی اقتداری غیب نہیں ہوتا جیسا کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں اس قسم کے غیب ہوتے ہیں کہ فلاں شخص جو شرارت سے باز نہیں آتاہم اُس کو ہلاک کریں گے۔ اور فلاں شخص جس نے صدق دکھلایا ہم اُس کو ایسی ایسی عزت دیں گے اور ہم اپنے نبی کی تائید کے لئے فلاں فلاں نشان دکھلائیں گے اور ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اورہم منکروں پر فلاں عذاب وارد کریں گے اور مومنوں کو اس طور کی فتح اور نصرت دیں گے۔ یہ اقتداری غیب ہیں جو حکومت کی طاقت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ایسی پیشگوئیاں شیطان نہیں کر سکتا۔ (۲) دوسرے شیطانی خواب یا الہام بخیل کی طرح ہوتا ہے اس میں کثرت سے غیب نہیں ہوتا اور رحمانی ملہم کے مقابل پر ایسا شخص بھاگ جاتا ہے کیونکہ رحمانی ملہم کے مقابل پر اس کا غیب اس قدر قلیل المقدار ہوتا ہے جیسا کہ سمندر کے مقابل پر ایک قطرہ ۔(۳) تیسرے اکثر اُس پر جھوٹ غالب ہوتا ہے۔ مگر رحمانی خواب یا الہام پر سچ غالب ہوتا ہے یعنی اگر کل الہامات کو دیکھا جائے تو رحمانی الہام میں کثرت سچ کی ہوتی ہے۔ اور شیطانی میں اس کے بر خلاف۔ اور ؔ ہم نے کُل کا لفظ رحمانی خوابوں یا الہاموں کی نسبت اس لئے استعمال نہیں کیا کہ ان میں بھی بعض الہام یا خواب متشابہات کے رنگ میں ہوتے ہیں یا اجتہادی طور پر کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور جاہل نادان ایسی پیشگوئیوں کو جھوٹ سمجھ لیتے ہیں اور ان کا وجود محض ابتلا کے لئے ہوتا ہے۔ اور بعض ربّانی پیشگوئیاں وعید کی قسم سے ہوتی ہیں جن کا تخلّف جائز ہوتا ہے۔ اور نیز یاد رہے کہ شیطانی الہام فاسق اور ناپاک آدمی سے مناسبت رکھتا ہے۔ مگر رحمانی الہامات کی کثرت صرف اُن کو ہوتی ہے جو پاک دل ہوتے اور خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں۔منہ