اور کس حالت میں کہا جائے گا کہ خُدا کسی شخص سے مکالمہ فرماتا ہے بلکہ اکثر نادان لوگ شیطانی القا کو بھی خدا کا کلام سمجھنے لگتے ہیں اور اُن کو شیطانی اور رحمانی الہام میں تمیز نہیں۔ پس یاد رہے کہ رحمانی الہام اور وحی کیلئے اول شر ط یہ ہے کہ انسان محض خدا کا ہو جائے اور شیطان کا کوئی حصہ اُس میں نہ رہے کیونکہ جہاں مردار ہے ضرور ہے کہ وہاں کُتے بھی جمع ہو جائیں اِسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 33 ۱۔ مگر جس میں شیطان کا حصہ نہیں رہا اور وہ سفلی زندگی سے ایسا دور ہوا کہ گویا مر گیا اور راستباز اور وفادار بندہ بن گیا اور خدا کی طرف آگیا اُس پر شیطان حملہ نہیں کر سکتا۔ جیسا ؔ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3 ۲ ۔جو شیطان کے ہیں اور شیطان کی عادتیں اپنے اندر رکھتے ہیں اُنہیں کی طرف شیطان دوڑتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے شکار ہیں۔
اور نیز یاد رہے کہ خدا کے مکالمات ایک خاص برکت اور شوکت اور لذّت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اور چونکہ خدا سمیع وعلیم و رحیم ہے اس لئے وہ اپنے متقی اور راستباز اور وفادار بندوں کو اُن کے معروضات کا جواب دیتا ہے اور یہ سوال وجواب کئی گھنٹوں تک طول پکڑ سکتے ہیں جب بندہ عجزو نیاز کے رنگ میں ایک سوال کرتا ہے تو اس کے بعد چند منٹ تک اس پر ایک ربودگی طاری ہو کر اس ربودگی کے پردہ میں اُس کو جواب مل جاتا ہے۔ پھر بعد اس کے بندہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو پھر دیکھتے دیکھتے اس پر ایک اور ربودگی طاری ہو جاتی ہے اور بدستور اس کے پردہ میں جواب مل جاتا ہے۔ اور خدا ایسا کریم اور رحیم اور حلیم ہے کہ اگر ہزار دفعہ بھی ایک بندہ کچھ سوالات کرے تو جواب مل جاتا ہے۔ مگر چونکہ خدا تعالیٰ بے نیاز بھی ہے اور حکمت اور مصلحت کی بھی رعایت رکھتا ہے اِس لئے بعض سوالات کے جواب میں اظہار مطلوب نہیں کیا جاتا اور اگر یہ پوچھا جاوے کہ کیونکر معلوم ہو کہ وہ جوابات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں نہ شیطان کی طرف سے۔ اِس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں۔
ما سوا اس کے شیطان گُنگا ہے اپنی زبان میں فصاحت اور روانگی نہیں رکھتا اور گُنگے کی