کہؔ جو شخص مسلمان کو کافر کہے تو کفر اُلٹ کر اُسی پر پڑتا ہے تو اِس صورت میں کیا ہمارا حق نہ تھا کہ بموجب اُنہیں کے اقرار کے ہم اُن کو کافر کہتے۔
غرض ان لوگوں نے چند روز تک اِس جھوٹی خوشی سے اپنا دل خوش کر لیا کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ اور پھر جب وہ خوشی باسی ہو گئی اور خدا نے ہماری جماعت کو تمام ملک میں پھیلا دیا تو پھر کسی اور منصوبہ کی تلاش میں لگے۔
تب انہی دنوں میں میری پیشگوئی کے مطابق پنڈت لیکھرام آریہ سماجی کو میعاد کے اندر کسی نے ہلاک کر دیا مگر افسوس کہ کسی مولوی کو یہ خیال نہ آیا کہ پیشگوئی پوری ہوئی اور اسلامی نشان ظاہر ہوا۔ بلکہ بعض نے ان میں سے بار بار گورنمنٹ کو توجہ دلائی کہ کیوں گورنمنٹ پیشگوئی کرنیوالے کو نہیں پکڑتی مگر اس آرزو میں بھی خائب اور خاصر رہے۔ اور پھر کچھ دنوں کے بعد ڈاکٹر پادری مارٹن کلارک نے ایک خون کا مقدمہ میرے پر دائر کیا۔ پھر کیا کہنا تھا اِس قدر خوشی ان لوگوں کو ہوئی کہ گویا پھولے اپنے جامہ میں نہ سماتے تھے۔ اور بعض مسجدوں میں سجدے کرکے میرے لئے اِس مقدمہ میں پھانسی وغیرہ کی سزا مانگتے تھے اور اس آرزو میں اُنہوں نے اس قدر سجدے رو رو کے کئے تھے کہ اُن کی نا کیں بھی گھس گئیں مگر آخر خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق جو پہلے شائع کیا گیا تھا بڑی عزت سے میں بَری کیا گیا او راجازت دی گئی کہ اگر چاہو تو ان عیسائیوں پر نالش کرو۔ مختصر یہ کہ اس آرزو میں بھی ہمارے مخالف مولوی اور اُن کے زیر اثر نامراد ہی رہے۔
پھر کچھ دِنوں کے بعد کرم دین نام ایک مولوی نے فو جداری مقدمہ گورداسپور میں میرے نام دائر کیا اور میرے مخالف مولویوں نے اُس کی تائید میں آتمارام اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں جاکر گواہیاں دیں اور ناخنوں تک زور لگایا اور اُن کو بڑی اُمید ہوئی کہ اب کی دفعہ ضرور کامیاب ہوں گے اور اُن کو جھوٹی خوشی پہنچانے کے لئے ایسا اتفاق ہوا کہ آتمارام نے اِس مقدمہ میں اپنی نافہمی کی وجہ سے پوری غور نہ کی اور مجھ کو سزائے قید دینے کیلئے مستعد ہو گیا۔ اُس وقت خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ آتمارام کو اس کی اولاد کے ماتم میں مبتلا کرے گا چنانچہ یہ کشف میں نے اپنی جماعت کو