مہریں لگائیں اور ہمیں کافر ٹھہرایا گیا۔ اور اُن فتووں میں یہاںؔ تک تشدد کیا گیا کہ بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ لوگ کفر میں یہود اور نصاریٰ سے بھی بد تر ہیں اور عام طور پر یہ بھی فتوے دئے کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرنا چاہئے۔ اور ان لوگوں کے ساتھ سلام اور مصافحہ نہیں کرنا چاہئے۔ اور اُن کے پیچھے نماز درست نہیں کافر جو ہوئے۔ بلکہ چاہئے کہ یہ لوگ مساجد میں داخل نہ ہونے پاویں کیونکہ کافر ہیں۔ مسجدیں ان سے پلید ہو جاتی ہیں۔ اور اگر داخل ہوجا ئیں تو مسجد کو دھو ڈالنا چاہئے۔ اوران کا مال چُرانا درست ہے اور یہ لوگ واجب القتل ہیں کیونکہ مہدی خُونی کے آنے سے انکاری اور جہاد سے منکر ہیں۔ مگر باوجود ان فتووں کے ہمارا کیا بگاڑا۔ جن دنوں میں یہ فتویٰ ملک میں شائع کیا گیا اُن دنوں میں دس آدمی بھی میری بیعت میں نہ تھے مگر آج خدا تعالیٰ کے فضل سے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور حق کے طالب بڑے زور سے اِس جماعت میں داخل ہو رہے ہیں۔ کیا مومنوں کے مقابل پر کافروں کی مدد خدا ایسی ہی کیا کرتا ہے۔ پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے ۲۰بیس کروڑ مسلمان اور کلمہ گو کو کافر ٹھہرایا۔ حالانکہ ہماری طرف سے تکفیر میں کوئی سبقت نہیں ہوئی۔ خود ہی ان کے علماء نے ہم پر کفر کے فتوے لکھے اور پنجاب اور ہندوستان میں شور ڈالا کہ یہ لوگ کافر ہیں اور نادان لوگ ان فتووں سے ایسے ہم سے متنفر ہو گئے کہ ہم سے سیدھے مُنہ سے کوئی نرم بات کرنا بھی اُن کے نزدیک گناہ ہو گیا۔کیا کوئی مولوی یا کوئی اور مخالف یا کوئی سجادہ نشین یہ ثبوت دے سکتا ہے کہ پہلے ہم نے ان لوگوں کو کافر ٹھہرایا تھا۔ اگر کوئی ایسا کاغذ یا اشتہار یا رسالہ ہماری طرف سے ان لوگوں کے فتوائے کفر سے پہلے شائع ہوا ہے جس میں ہم نے مخالف مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہو تو وہ پیش کریں ورنہ خود سوچ لیں کہ یہ کس قدر خیانت ہے کہ کافر تو ٹھہراویں آپ اور پھر ہم پر یہ الزام لگاویں کہ گویا ہم نے تمام مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا ہے اس قدر خیانت اور جھوٹ اور خلاف واقعہ تہمت کس قدر د ل آزار ہے۔ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے؟ اور پھر جبکہ ہمیں اپنے فتووں کے ذریعہ سے کافر ٹھہرا چکے اور آپ ہی اس بات کے قائل بھی ہو گئے۔