کوششؔ کرتاہے مگر انبیاء علیہم السلام دوسروں کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کیلئے جاگتے ہیں۔ اورلوگ ہنستے ہیں اور وہ اُن کیلئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کیلئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کر لیتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کرتے ہیں کہ تا خدا تعالیٰ کچھ ایسی تجلی فرماوے کہ لوگوں پر ثابت ہو جاوے کہ خدا موجود ہے اور مستعد دلوں پر اُس کی ہستی اور اُس کی توحید منکشف ہو جاوے تاکہ وہ نجات پائیں۔ پس وہ جانی دشمنوں کی ہمدردی میں مر رہتے ہیں۔ اور جب انتہا درجہ پر اُن کا درد پہنچتا ہے اور ان کی دردناک آہوں سے (جو مخلوق کی رہائی کیلئے ہوتی ہیں) آسمان پُر ہو جاتا ہے۔ تب خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمک دکھلاتا ہے اور زبردست نشانوں کے ساتھ اپنی ہستی اور اپنی توحید لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ پس اس میں شک نہیں کہ توحید اور خدا دانی کی متاع رسول کے دامن سے ہی دنیا کو ملتی ہے بغیر اس کے ہر گز نہیں مل سکتی اور اس امر میں سب سے اعلیٰ نمونہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا کہ ایک قوم جو نجاست پر بیٹھی ہوئی تھی اُن کو نجاست سے اُٹھا کر گلزار میں پہنچا دیا۔ اور وہ جو روحانی بھوک اور پیاس سے مرنے لگے تھے اُن کے آگے روحانی اعلیٰ درجہ کی غذائیں اور شیریں شربت رکھ دئے۔ اُن کو وحشیانہ حالت سے انسان بنایا۔پھر معمولی انسان سے مہذب انسان بنایا پھر مہذب انسان سے کامل انسان بنایا اور اس قدر اُن کے لئے نشان ظاہر کئے کہ اُنکو خدا دکھلا دیا اور اُن میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی کہ اُنہوں نے فرشتوں سے ہاتھ جا ملائے۔ یہ تاثیر کِسی اور نبی سے اپنی اُمّت کی نسبت ظہور میں نہ آئی کیونکہ اُن کے صحبت یاب ناقص رہے پس مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔* افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اُس کے * یہ عجیب بات ہے کہ دنیا ختم ہونے کو ہے مگر اس کامل نبی کے فیضان کی شعاعیں اب تک ختم نہیں ہوئیں اگر خدا کا کلام قرآن شریف مانع نہ ہوتا تو فقط یہی نبی تھا جس کی نسبت ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اب تک مع جسم عنصری