اپنے اندر رکھتا ہے۔ اور نیز کمال درجہ کی ہمدردی بنی نوع کی اس کی فطرت میں ہے تجلّی فرماتا ہے اور اُس پر اپنی ہستی اور صفاتِ ازلیہ ابدیہ کے انوار ظاہر کرتا ہے اور اس طرح وہ خاص اور اعلیٰ فطرت کا آدمی جس کو دوسرے لفظوں میں نبی کہتے ہیں اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ پھر وہ نبی بوجہ اسکے کہ ہمدردی بنی نوع کا اس کے دل میں کمال درجہ پر جوش ہوتا ہے اپنی روحانی توجہات اور تضرع اور انکسار سے یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا جو اُس پر ظاہرہوا ہے۔ دُوسرے لوگ بھی اُسکو شناخت کریں اور نجات پاویں اور وہ دلی خواہش سے اپنے وجود کی قربانی خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور اس تمنا سے کہ لوگ زندہ ہو جائیں کئی موتیں اپنے لئے قبول کر لیتا ہے اور بڑے مجاہدات میں اپنے تئیں ڈالتا ہے جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے3 3 ۱ ؂ * تب اگرچہ خدا مخلوق سے بے نیاز اور مستغنی ہے مگر اُس کے دائمی غم اور حزن اور کرب و قلق اور تذلل اور نیستی اور نہایت درجہ کے صدق اور صفا پر نظر کرکے مخلوق کے مستعددلوں پر اپنے نشانوں کے ساتھ اپنا چہرہ ظاہر کر دیتا ہے اور اُس کی پُر جوش دعاؤں کی تحریک سے جو آسمان پر ایک صَعبناک شورڈالتی ہیں خدا تعالیٰ کے نشان زمین پر بارش کی طرح برستے ہیں۔ اور عظیم الشان خوارق دنیا کے لوگوں کو دکھلائے جاتے ہیں جن سے دنیا دیکھ لیتی ہے کہ خدا ہے اور خدا کا چہرہ نظر آجاتا ہے لیکن اگر وہ پاک نبی اِس قدر دعا اور تضرّع اور ابتہال سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرتا اور خدا کے چہرہ کی چمک دنیا پر ظاہر کرنے کیلئے اپنی قربانی نہ دیتا اور ہرایک قدم میں صدہا موتیں قبول نہ کرتا تو خُدا کا چہرہ دنیا پر ہر گز ظاہر نہ ہوتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ بوجہ استغناء ذاتی کے بے نیاز ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۲؂ اور 3 ۳؂ یعنی خدا تو تمام دنیا سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور ہماری طلب میں کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اُنہیں کیلئے ہمارا یہ قانون قدرت ہے کہ ہم اُنکو اپنی راہ دکھلا دیا کرتے ہیں۔ سو خدا کی راہ میں سب سے اول قربانی دینے والے نبی ہیں۔ ہر ایک اپنے لئے * (ترجمہ) یعنی کیا تُو اِس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ کافر لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔منہ