الحمد للّٰہ الذی جعل لکم الصھرو النسب ۔* الحمدللّٰہ الذی اذھب
اُس خدا کو تعریف ہے جس نے دامادی اور نسب کی رو سے تیرے پر احسان کیا۔ اس خدا کو تعریف ہے جس نے میرا
عنی الحزن ۔ واٰتانی مالم یؤت احد من العالمین۔ یٰسٓ۔ انک
غم دُور کیا۔ اور مجھ کو وہ چیز دی جو اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ اے سردار تُو خدا کا
لمن المرسلین ۔ علٰی صراط مستقیم۔ تنزیل العزیز الرحیم ۔ اردت
مُرسل ہے راہ راست پر اُس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے مَیں نے ارادہ
ان استخلف فخلقت اٰدم۔ یُحْیِی الدین ویقیم الشریعۃ۔
کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے اس آدم کو پیدا کیا۔ وہ دین کو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کرے گا۔
چو دَورِ خسروی ژ آغاز کر دند مسلمان رامسلمان باز کردند
جب مسیح السلطان کا دور شروع کیا گیا تو مسلمانوں کو جو صرف رسمی مسلمان تھے نئے سرے مسلمان بنانے لگے
ان السمٰوات والارض کانتا رتقا ففتقناھما۔ قرب اجلک
آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو کھولدیا یعنی زمین نے اپنی پوری قوت ظاہر کی اور آسمان نے بھی۔
المقدّر۔ انّ ذاالعرش یدعوک۔ ولا نبقی لک من المخزیات
اب تیرا وقت موت قریب آگیا۔ ذوالعرش تجھے بُلاتا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی رُسوا کنندہ امر نہیں چھوڑیں گے
ذکرا۔ قَلَّ میعاد ربّک۔ ولا نبقی لک من المخزیات شیءًا۔
تیرے رب کا وعدہ کم رہ گیا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی امر رُسوا کنندہ باقی نہیں چھوڑیں گے۔
بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اُس دن خدا کی طرف سے
زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اس دن سب جماعت دل برداشتہ
سب پر اُداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔
اور اُداس ہو جائے گی۔ کئی واقعات کے ظہور کے بعد
یعنی خدا نے تجھ پر یہ احسان کیا کہ ایک شریف اور معزز اور شہرت یافتہ اور باوجاہت خاندان سے تجھے پیدا کیا اور دوسرے یہ احسان کیا کہ ایک معزز دہلی کے سادات خاندان سے تیری بیوی آئی۔منہ
ژ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں مسیح آخرالزمان کو بادشاہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے اس سے مراد آسمانی بادشاہی ہے یعنی وہ آئندہ سلسلہ کا ایک بادشاہ ہوگا اور بڑے بڑے اکابر اُس کے پیرو ہوں گے۔منہ