اُن کو قبول کرسکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امیدنہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کرسکیں کہ بعد زمانۂ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے بلکہ صریح معلوم ہوتا تھا کہ اُن کی طرف سے وحی کے دعوے پر تکفیر کا انعام ملے گا۔ اور سب علماء متفق ہوکر درپئے ایذا و بیخ کنی ہو جائیں گے۔ کیونکہ اُن کے نزدیک بعد سیدنا جناب ختمی پناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الٰہی پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بالکل غیرممکن ہے کہ اب کسی سے مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ ہو اور اب قیامت تک اُمّتِ مرحومہ اِس قسم کے رحم سے بے نصیب کی گئی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان کو اپنا ہمکلام کرکے اُن کی معرفت میں ترقی بخشے اور براہ راست اپنی ہستی پر اُن کو مطلع فرمائے بلکہ وہ صرف تقلیدی طورپر گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔اور شہودی طور پر ایک ذرّہ معرفت اُن کو حاصل نہیں۔ ہاں اس قدر محض لغو طریق پر بعض کا اُن میں سے اعتقاد ہے کہ الہام تو نیک بندوں کو ہوتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ الہام رحمانی ہے یا شیطانی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا الہام جو شیطان کی طرف بھی منسوب ہوسکتا ہے خدا کے ان انعامات میں شمار نہیں ہوسکتا جو انسان کے ایمان کو مفید ہوسکتے ہیں بلکہ مشتبہ ہونا اور شیطانی کلام سے مشابہ ہونا اُس کے ساتھ ایک ایسا *** کا داغ ہے جو جہنم تک پہنچا سکتا ہے۔ او راگر خدا نے کسی بندہ کے لئے33کی دُعا قبول کی ہے اور اُس کو منعمین میں داخل فرمایا ہے توضرور اپنے وعدہ کے مطابق اس رُوحانی انعام سے حصہ دیا ہے جو یقینی طورپر مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ ہے۔
غرض یہ ہی وہ امر تھا کہ اس اندھی دُنیا میں قوم کیلئے ایک جوش اور غضب دکھلانے کا محل تھا۔ پس میرے جیسے بیکس تنہا کے لئے ان تمام امور کا جمع ہونا بظاہر ناکامی کی ایک علامت تھی*۔ بلکہ ایک سخت ناکامی کا سامنا تھا کیونکہ کوئی پہلو بھی درست نہ تھا ۔ اوّل
میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا اسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔ فاجاء ہ المخاض