کہ یہ وہی لڑکا ہے جو دُعا کے ذریعہ سے پیدا ہوا۔پس ایسا ہی وقوع میں آیا۔ اور تھوڑے ہی دنوں کے بعد مولوی صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبدالحی رکھا گیا۔ اور ؔ اُس کی پیدائش کے زمانہ کے قریب ہی بہت سے پھوڑے اُس کے بدن پر نکل آئے جن کے داغ اب تک موجود ہیں۔ یہ پھوڑے خدا نے اس لئے اُس کے بدن پر پیدا کئے تا کسی کو یہ وہم پیدا نہ ہو کہ یہ اتفاقی معاملہ ہے دُعا کا اثر نہیں۔ اور نہ اس کو پیشگوئی پر دلالت قطعی ہے جیسا کہ بعض اوقات ایسا اتفاق ہو جاتا ہے کہ چند آدمی ایک کسی غائب دوست کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس وقت آتے تو اچھا تھا اور ابھی وہ ذکر شروع ہی ہوتا ہے کہ وہ خود بخود آجاتے ہیں۔ تب لوگ کہتے ہیں۔ آیئے صاحب ابھی ہم آپ کا ذکر ہی کررہے تھے کہ آپ آہی گئے۔ سو خدا نے اِس پیشگوئی کے ساتھ پھوڑوں کا نشان بتلا دیا تا معلوم ہو کہ وہ لڑکا دُعا کے اثر سے پیدا ہوا ہے نہ اتفاقی طور پر۔ ایسے ہی ہزارہا میرے پاس نمونے ہیں مگر افسوس مَیں اس مختصر رسالہ میں ان کا ذکر نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ مَیں ابھی بیان کر چکا ہوں چھوٹے چھوٹے واقعات کی پیشگوئیاں جبکہ ہزاروں تک ان کی تعداد پہنچ جائے تو اس بات کی قطعی دلیل ٹھہرتی ہیں کہ جس شخص کے ہاتھ پر وہ پیشگوئیاں ظاہر ہوئی ہیں اور جو منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ درحقیقت منجانبؔ اللہ ہے۔ لیکن جن کے دلوں میں شک اور وسوسہ کی مرض ہے وہ پھر بھی شبہات سے باز نہیں آتے اورفی الفور کہہ دیتے ہیں کہ فلاں فقیر نے بھی تو ایسی ہی کرامت دکھلائی تھی اور فلاں جوتشی صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی فرمایا تھا جو سچ سچ نکلا۔ اور اس طرح پر نہ وہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اور یہ نادان آنکھ تو رکھتے ہیں مگر وہ آنکھ ہر ایک گوشہ کو دیکھ نہیں سکتی۔ اور دل تو رکھتے ہیں مگر وہ دل ہر ایک پہلو کو سوچ نہیں سکتا۔ ہم نے کب اور کس وقت کہا کہ