کی پیشگوئیاں اگرچہ خدا کے مرسلوں کی صداقت کی وہ بھی ایک کافی دلیل ہیں کیونکہ مقدار اور کیفیت کے لحاظ سے ان پیشگوئیوں میں بھی دوسرے لوگ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تا ہم جن لوگوں پر وسوسہ اور وہم غالب ہے وہ کسی نہ کسی وہم میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی مامور من اللہ کی دُعا سے کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہو یا وہ مامور لڑکا پیدا ہونے کی خبر دے اور لڑکا پیدا ہو جائے تو بہت سے لوگ بول اُٹھتے ہیں کہ یہ کوئی خاص نشان نہیں بہتیری عورتوں کو بھی اپنی نسبت یا ہمسایہ عورت کی نسبت خوابیں آجاتی ہیں کہ اس کے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا۔ تو پھر لڑکا بھی پیدا ہو جاتا ہے تو کیا اُس عورت کو خدا کا نبی یا رسول یا محدّث مان لیا جائے؟ اور گو ایسے تو ہمات میں یہ لوگ جھوٹے ہیں مگر جاہلوں کی زبان کون بند کرے؟ اور جھوٹے اس لئے ہیں کہ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ کسی ایک قول اور شاذ و نادر واقعہ سے کسی کا منجانب اللہ ہوناؔ ثابت ہو جاتا ہے تا ہر ایک خواب دیکھنے والا خدا کا برگزیدہ سمجھا جائے بلکہ اوّل دعویٰ چاہیئے پھر ایسی پیشگوئیاں چاہئیں جو اپنی اپنی کمیّت اور کیفیّت کی رُو سے اُس حد تک پہنچ چکی ہوں کہ جو معمولی انسانوں کی خوابوں یا الہاموں کی شراکت اُن کے ساتھ ممتنع ہو۔ جیسا کہ ایسی پیشگوئیاں چھوٹے چھوٹے واقعات کے متعلق جو میرے ذریعہ سے خدا نے پوری کیں اُن کا عدد کئی ہزار تک پہنچتا ہے اَور کون ہے جس نے تعداد اور صفائی کے لحاظ سے اُن کا مقابلہ کر کے دکھلایا۔ چند سال ہوئے ہیں کہ ایک بدقسمت نادان نے اعتراض کیا تھا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب جو اِس قدر اخلاص رکھتے ہیں اُن کا لڑکا فوت ہوگیا ہے۔ یہ اعتراض اگرچہ نِرا تعصّب اور جہالت کی وجہ سے تھا کیونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ لڑکے فوت ہوئے تھے مگر میری دُعا پر خدا نے مجھ پر ظاہر کیا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا اور اس کے بدن پر پھوڑے نمودار ہو جائیں گے تا اس بات کا نشان ہو