اس سوال کا جواب د۲و طور سے ہے۔ اوّ۔۱ل یہ کہ انسانی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ رحمت کے نشانوں سے بہت ہی کم فائدہ اُٹھاتا ہے۔ اور ایسا ہی تعصّب کی وجہ سے دوسری قسم کے چھوٹے چھوٹے نشانوں کے ٹالنے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی حیلہ نکالتا ہے تا کسی طرح دولت قبول سے محروم رہے۔ چنانچہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا کہ باوجود ہزارہا نشانوں کے ظاہر ہونے کے قوم کے دلوں پر ایک ذرّہ اثر نہ پڑا۔ اگر آپ میری کتاب ’’نزول المسیح‘‘ کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خدا نے نشانوں کے دکھلانے میں کوئی فرق نہیں کیا۔ دوستوں کے لئے بھی نشان ظاہر ہوئے اور دشمنوؔ ں کی تنبیہ کے لئے بھی۔ اور میری ذات کے متعلق بھی۔ اور ایسا ہی میری اولاد کے متعلق بھی نشان ظہور میں آئے۔ اور جس طرح زمین کا ایک بڑا حصّہ سمندر سے بھرا ہوا ہے ایسا ہی یہ سلسلہ خدا کے نشانوں سے بھر گیا۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ اور ہر ایک پیشگوئی کسی نہ کسی نشان پر مشتمل ہوتی ہے اور مَیں نے اس رسالہ میں دس ہزار نشان کا صرف نمونہ کے طور پر ذکر کیا ہے ورنہ اگر وہ سب تحریر کئے جائیں تو وہ کتاب جس میں وہ قلمبند ہوں ہزار جزو سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ کیا اس قدر غیب کا موج در موج ظاہر ہونا کسی مفتری کے کاروبار میں ممکن ہے۔ میرے نادان مخالفوں کو خدا روز بروز انواع و اقسام کے نشان دکھلانے سے ذلیل کرتا جاتا ہے۔ اور مَیں اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اُس نے ابراہیمؑ سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحٰق ؑ سے اور اسمٰعیلؑ سے اور یعقوبؑ سے اور یوسفؑ سے اور موسٰیؑ سے اور مسیحؑ ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اُس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔ مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پَیروؔ ی سے حاصل ہوا۔ اگر مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی