میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا۔ مَیں اپنے نفس میں کوئی نیکیؔ نہیں دیکھتا۔ اور مَیں نے وہ کام نہیں کیا جو مجھے کرنا چاہئے تھا۔ اور مَیں اپنے تئیں صرف ایک نالائق مزدور سمجھتا ہوں۔ یہ محض خدا کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہوا۔ پس اُس خدائے قادر اور کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس مُشتِ خاک کو اس نے باوجود ان تمام بے ہنریوں کے قبول کیا ۔
عجب دارم ازلطفت اے کردگار
پذیرفتہۂ چوں منِ خاکسار
پسندیدگانے بجائے رسند
ز ما کہترانت چہ آمد پسند
چو از قطرۂ خلق پیدا کنی
ہمیں عادت اینجا ہویدا کنی
یہ بات لکھنے سے رہ گئی کہ مذکورہ بالا الہام میں جو یہ لفظ ہیں انّ وعداللّٰہ لایُبدّل۔ یعنی خدا کا وعدہ ٹل نہیں سکتایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پانچ۵ زلزلوں کا آنا خدا تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے جو ضرور ہو کر رہے گا ہاں جو شخص توبہ استغفار کرے گا اور ابھی سے خدا تعالیٰ سے صلح کرے گا اور کوئی سرکشی کی آگ اس میں باقی نہیں رہے گی خدا اس پر رحم کرے گا۔ مگر اس پر رحم کرنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ یہ پا۵نچ زلزلے نہیں آویں گے۔ وہ تو ضرور آویں گے مگر ایسا شخص اُن کے صدمہ سے بچ جائے گا کیونکہ یہ خدا ؔ تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ اپنے وعدہ میں تخلّف نہیں کرتا۔ اُس کا وعید ٹل سکتا ہے۔ مگر وعدہ نہیں ٹل سکتا۔ جیسا کہ ہم ابھی پہلے بیان کر چکے ہیں۔
ایک اور بات اس جگہ ذکر کے لائق ہے کہ اس جگہ طبعًا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ اس سے پہلے صدہا نشان میری تصدیق کے لئے کھلے کھلے ظاہر ہو چکے تھے اور ہزارہا تک نوبت پہنچ گئی تھی تو پھر اس مہلک طاعون اور اِن تباہی افگن زلازل کی کیا ضرورت تھی۔ کیا وہ صدہا نشان کافی نہ تھے؟