وعید کی پیشگوئیاں ہیں جن کے ساتھ شرط بھی تھی جن میں خوف اور ڈرنے کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔ اور جن کی نسبت خدا تعالیٰ کا قدیم قانون ہے کہ وہ توبہ استغفار اور صدقہ اور دُعا سے ٹل سکتی ہیں۔ لیکن اُن کے مقابل پر وہ پیشگوئیاں پوری ہوئیں جو دس ہزار سے بھی زیادہ ہیں جن کی سچائی کے لئے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں۔ اور صرف ایک فرقہ نہیں بلکہ تمام فرقے۔ کیا مسلمان اور کیا ہندو اور کیا عیسائی ان کی سچائی کی شہادت دینے کے لئے مجبور ہیں پس کیا یہ ایمانداری تھی کہ پیشگوئیوں کی ایک عظیم الشان فوج کو جن کی سچائی پر لاکھوں انسان گواہ ہیں کالعدم سمجھ کر ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھانا۔ اور وعید کی ایک دو پیشگوئیوں کو جو خدا کے قدیم قانون کے موافق تاخیر پذیر ہوگئیں بار بار پیش کرنا۔ اگر یہی حال ہے تو کسی نبی کی نبوّت قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ ان واقعات کا ہر ایک نبوت میں نمونہ موجود ہے اِسی لئے مَیں کہتا ہوں کہ یہ لوگ دین اور سچائی کے دشمن ہیں۔ اور اگر اب بھی ان لوگوں کی کوئی جماعت دلوں کو درست کر کے میرے پاس آوے تو مَیں اب بھی اِس بات کے لئے حاضر ہوں کہ اُن کے لغو اور بیہودہ شبہات کا جواب دوں اور ان کو دکھلاؤں کہ کس قدر خدا نے ایک فوجِ کثیر کی طرح میری ؔ شہادت میں پیشگوئیاں مہیّا کر رکھی ہیں جو ایسے طور سے اُن کی سچائی ظاہر ہوئی ہے جیسا کہ دن چڑھ جاتا ہے۔ یہ نادان مولوی اگر اپنی آنکھیں دیدہ و دانستہ بند کرتے ہیں تو کریں۔ سچائی کو ان سے کیا نقصان؟ لیکن وہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ بہتیرے فرعون طبع ان پیشگوئیوں پر غور کرنے سے غرق ہونے سے بچ جائیں گے۔ خدا فرماتا ہے کہ مَیں حملہ پر حملہ کروں گا یہاں تک کہ مَیں تیری سچائی دلوں میں بٹھا دوں گا۔
پس اے مولویو! اگر تمہیں خدا سے لڑنے کی طاقت ہے تو لڑو۔ مجھ سے پہلے ایک غریب انسان مریم کے بیٹے سے یہودیوں نے کیا کچھ نہ کیا اور کس طرح اپنے گمان میں اُس کو سولی دے دی۔ مگر خدا نے اس کو سولی کی موت سے بچایا۔ اور یا تو وہ