چونکہ اُن کی نیّتیں درست نہیں اس لئے اعتراض کے وقت اُن کو وہ پیشگوئیاں یاد نہیں رہتیں جو دس ہزار سے بھی زیادہ مجھ سے وقوع میں آگئی ہیں۔ اور جیسا کہ خدا نے فرمایا تھا ویسا ہی ظہور میں آئیں۔ اور اگر کوئی وعید کی پیشگوئی جو کسی شخص کے عذاب پرمشتمل تھی اپنے وقت سے ٹل گئی ہو تو اس پر شور مچاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی کتابوں پر ایمان ہی نہیں۔ اور میرے پرحملہ کرنے کے جوش سے تمام نبیوں پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ نادان نہیں جانتے کہ اگر ڈپٹی آتھم پندرہ مہینے میں نہیں مرا تو آخر چند ماہ بعد میری زندگی میں ہی مرگیا۔ اور پیشگوئی میں صاف یہ لفظ تھے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جائے گا۔ اُس کا دعویٰ تھا کہ عیسائی مذہب سچا ہے اور میرا دعویٰ تھا کہ اسلام سچا ہے پسؔ خدا نے میری زندگی میں اُس کو ہلاک کر دیا اور مجھے سچا کیا۔ پند۱۵رہ مہینے کو بار بار بیان کرنا اور ان امور کا ذکر نہ کرنا کیا یہی ان مولویوں کی دیانتداری ہے؟ نہیں سوچتے کہ یونس نبی کی تو قطعی عذاب کی پیشگوئی تھی جس کی نسبت خبر دی گئی تھی کہ چالیس۴۰ دن تک بہر حال اس قوم پر عذاب وارد ہو جائے گا مگر وہ عذاب اُن پر وارد نہ ہوا یہاں تک کہ یونسؑ اُن میں سے بہتوں کی زندگی میں ہی فوت ہوگیا۔ ہائے افسوس! اگر ان لوگوں کی نیّت درست ہوتی تو آتھم کے واقعہ کے بعد جو پیشگوئی لیکھرام کی نسبت کی گئی تھی جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہ تھی اور جس میں صاف طور پر وقت اور قسم موت بتلائی گئی تھی اسی پر غور کرتے کہ کیسی صفائی سے وہ پوری ہوئی۔ مگر کون غور کرے جب تعصب سے دل اندھے ہوگئے۔ اور اگر ایک ذرّہ دلوں میں انصاف ہوتا تو ایک نہایت سہل طریق اُن کے لئے مہیّا تھا کہ جن پیشگوئیوں کے نہ پورے ہونے پر اُن کو اعتراض ہے وہ لکھ کر میرے سامنے پیش کرتے کہ وہ کس قدر ہیں اور پھر مجھ سے اس بات کا ثبوت لیتے کہ وہ پیشگوئیاں جو پوری ہوگئیں وہ کس قدر ہیں تو اس امتحان سے اُن کے تمام پردے کھل جاتے اور مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ محلِّ اعتراض اُن کے پاس صرف ایکؔ دو