کے ماتحت نہیں ہوسکتا اس سے دور یا تسلسل لازم آتا ہے۔ لیکن حال واقعہ جو مسلم فریقین ہے یہ ہے کہ سب ارواح خدائے تعالیٰ کے ماتحت ہیں کوئی اس کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ وہ سب حادث اور مخلوق ہیں کوئی ان میں سے خدا اور واجب الوجود نہیں اور یہی مطلب تھا۔ دلیل دوم جو اِنِّی ہے یعنی معلول سے علت کی طرف دلیل لی گئی ہے۔ دیکھو سورۂ الفرقان۔لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِىْ الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا۱؂ یعنے اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ سب کا خالق ہے۔ اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہرایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتی بلکہ اسی اندازہ میں محصور اور محدود ہے۔ اس کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر اور محدّد ضرور ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہواکہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاصر اور محدو د ہے۔ اب اثبات قضیہ اولیٰ کا یعنی محدود القدر ہونے اشیاء کا اس طرح پر ہے کہ جمیع اجسام اور ارواح میں جو جو خاصیتیں پائی جاتی ہیں عقل تجویز کرسکتی ہے کہ ان خواص سے زیادہ خواص ان میں پائے جاتے مثلاً انسان کی وہ آنکھیں ہیں اور عندالعقل ممکن تھا کہ اس کی چار آنکھیں ہوتیں۔ دو مونہہ کی طرف اور دو پیچھے کی طرف تاکہ جیسا آگے کی چیزوں کو دیکھتا ہے ویسا ہی پیچھے کی چیزوں کو بھی دیکھ لیتا۔ اور کچھ شک نہیں کہ چار آنکھ کا ہونا بہ نسبت دو آنکھ کے کمال میں زیادہ اور فائدہ میں دوچند ہے۔ اور انسان کے پرنہیں اور ممکن تھا کہ مثل اور پرندوں کے اس کے پر بھی ہوتے۔ اور علیٰ ہذا القیاس نفس ناطقہ انسانی بھی ایک خاص درجہ میں محدود ہے جیسا کہ وہ بغیر تعلیم کسی معلم کے خودبخود مجہولات کو دریافت نہیں کرسکتا قاسر خارجی