کے درجہ کو پہنچے اور جس کے اظہار جلال کے لئے بیڑا اٹھایا تھا آخر اس کی راہ میں جان دے دی۔ پس جس حالت میں قدیم سے جاہلوں کی یہ عادت چلی آئی ہے کہ جب وہ معقول باتوں سے ملزم اور لاجواب ہوجاتے ہیں تو آخر انہیں یہی تدبیر سوجھتی ہے کہ اس شخص کو ہر قسم کا دکھ اور تکلیف پہنچائیں یا اس کی زندگی کا ہی خاتمہ کردیں۔ اس صورت میں ہمیں حضرات آریوں پر جو ہماری نسبت ایسی ہی کاروائیاں کررہے ہیں*کچھ افسوس نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ہم ہرایک قسم کا دکھ اٹھانے کو ہروقت مستعدؔ ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی وسیلہ سعادت اندوزی کا نہیں۔ کہ گمراہوں کو عذاب الیم سے چھوڑانے کے لئے اپنے نفس کو مصیبتوں میں ڈالا جائے لیکن اگر ہمیں کچھ افسوس یا تعجب ہے تو بس یہی کہ اگر ہم بقول ان کے بالکل ان کے مذہب سے بے خبر جسؔ شخص نے آریوں کی بدزبانی اور سخت کلامی ہماری نسبت سننی ہو وہ لیکھرام پشاوری کی تحریریں اور تقریریں سنیں اور ۲۷؍ جولائی ۱۸۸۶ ؁ء کا اشتہار جو آریوں کی طرف سے مطبع چشمہ نور امرتسر میں ہماری نسبتؔ چھپا ہے وہ دیکھے اور نیز ایک اشتہار ان کا مسمی بہ بیل نہ کودا کودی گون مطالعہ کرے۔ اور نیز وہ رسالہ آریوں کا جس کا عنوان یہ ہے کہ سرمہ چشم آریہ کی حقیقت اور فن فریب غلام احمد کی کیفیت ضرور اس ہمارے رسالہ کے ساتھ دیکھنے کے لائق ہے۔ اس لیکھرام پشاوری کا ہر جگہ اور ہر جلسہ میں یہی طریق ہورہا ہے کہ گند بکنا اور گالیاں دینا اور بہتان لگانا اس نے اپنی کتاب تکذیب براہین احمدیہ میں بہت سی توہین آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہے اور ایک گندہ نامعقول سے مقدس رسول کی زندگی کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے مگر شکر ہے کہ آریہ درپن کے پرچوں اور اندرمن کے اشتہاروں اور پنڈت شیونرائن صاحب کی پوست کندہ تحریروں نے اس مقابلہ کی حاجت نہیں رہنے دی۔ ۲۷؍جولائی ۱۸۸۶ ؁ء کے اشتہار میں جو آریوں