طاقتؔ والا جانتے ہیں کہ اس کو فقط جوڑنا جاڑنا آتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ آپ نے تو قرآن شریف کے مطابق انہیں یہ سبق پڑھایا تھا کہ وہ تمام انتہائی درجہ کی قدرتیں اور عظمتیں اور تعریفیں جو ذہن میں آسکتی ہیں اور وہ سب کمالات اعلیٰ سے اعلیٰ جو خدا ہونے کے لئے زیبا و شایان ہیں وہ سب پرمیشر کو حاصل ہیں مگر آپ کے چیلے تو چار دن آریہ سماج میں بیٹھ کر اور ویدوں کی ملحدانہ شرتیوں کو سن کر آپ کے اس گورمنتر کو چھوڑ بیٹھے اور وہ پٹڑی ہی بھول گئے جس پر آپ نے انہیں جمایا تھا اب اور تعریفیں پرمیشر کی تو طاق پر رہیں انہوں نے تو وہ پہلا حرف ہی جس سے نام پرمیشر کا دنیا میں ظاہر ہوتا ہے یعنی پیدا کرنا اپنے لوح دل سے ایسا مٹا دیا ہے کہ گویا کبھی سنا ہی نہیں تھا۔
ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کا
ان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا
آریو اس قدر کرو کیوں جوش
کیا نظر آگیا ہے ویدوں کا
نہ کیا ہے نہ کرسکے پیدا
سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا
عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو
کیوں بھروسا کیا ہے ویدوں کا
بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو
یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا
ناستک مت کے وید ہیں حامی
بس یہی مدعا ہے ویدوں کا
ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے
کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا
اور واضح رہے کہ یہ تعلیم ویدوں کی کہ دنیا خودبخود چلی آتی ہے کوئی اس کے سر پر پیدا کنندہ و مالک نہیں ہے صرف ایک ادھورا سا جوڑنے جاڑنے والا ہے یہ ایک ایسا ناقص اعتقاد ہے جس کے ماننے سے بہ مجبوری یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس جوڑنے جاڑنے والے کو یا تو اپنے ممالک مقبوضہ کا کچھ بھی