کبھی کسی نبی یا اَوتار پر گائے کی شکل پر ظاہر ہوا اور کسی پر کچھ یا مچھ کی شکل پر ظاہر ہوا اور انسان کی شکل کا وقت نہ آیا جب تک انسان کامل یعنی ہمارا نبیؔ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوگئے تو روح القدس بھی آپ پر بوجہ کامل انسان ہونے کے انسان کی شکل پر ہی ظاہر ہوا اور چونکہ روح القدس کی قوی تجلّی تھی جس نے زمین سے لے کر آسمان کا اُفق بھر دیا تھا اس لئے قرآنی تعلیم شرک سے محفوظ رہی لیکن چونکہ عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس نہایت کمزور شکل میں ظاہر ہوا تھا یعنی کبوتر کی شکل پر اس لئے ناپاک روح یعنی شیطان اس مذہب پر فتح یاب ہو گیا اور اس نے اپنی عظمت اور قوت اس قدر دکھلائی کہ ایک عظیم الشان اژدھا کی طرح حملہ آور ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے عیسائیت کی ضلالت کو دنیا کی سب ضلالتوں سے اوّل درجہ پر شمار کیا ہے اور فرمایا کہ قریب ہے کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں کہ زمین پر یہ ایک بڑا گناہ کیا گیا کہ انسان کو خدا اور خدا کا بیٹا بنایا اور قرآن کے اوّل میں بھی عیسائیوں کا ردّ اور ان کا ذکر ہے جیسا کہ آیت اِیَّاکَ نَعْبُدُ اور وَلَاالضَّالِّیْنَ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے آخر میں بھی عیسائیوں کا ردّ ہے جیسا کہ سورۃ 3ٌ33 ۱؂سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے درمیان بھی عیسائی مذہب کے فتنہ کا ذکر ہے جیسا کہ آیت3۲؂ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن سے ظاہر ہے کہ جب سے کہ دنیا ہوئی مخلوق پرستی اور دجل کے طریقوں پر ایسا زور کبھی نہیں دیا گیا اسی وجہ سے مباہلہ کے لئے بھی عیسائی ہی بلائے گئے تھے نہ کوئی اور مشرک۔ اور یہ جو روح القدس پہلے اس سے پرندوں یا حیوانوں کی شکل پر ظاہر ہوتا رہا اس میں کیا نکتہ تھا سمجھنے والا خود سمجھ لے اور اس قدر ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہمارے نبی صلعم کی انسانیت اس قدر زبردست ہے کہ روح القدس کو بھی