مَنَعْنَا مِنَ الْکِذْبِ الْکَثِیْرِ فَکَا ثَرُوْا وَشَرُّخِِصَالِ الْمَرْءِ کِذْبٌ یُّکَرِّرُ ہم نے بہت جھوٹ سے ان کو منع کیا پس انہوں نے جھوٹ کثرت کے ساتھ بولنا شروع کیا۔ اور انسان کی بدترین خصلت وہ جھوٹ ہے جو بار بار بیان کرتا ہے کَتَبْتَ فَوَیْلٌ لِّلْاَنَامِلِ وَالْقَلْمِ وَتَبَّتْ یَدٌ تُغْوِی الْاَنَامَ وَتَہْذُرُ تو نے اپنی کتاب لکھی پس ان انگلیوں پر واویلا ہے۔ اور ہلاک ہو گیا وہ ہاتھ جو لوگوں کو گمراہ کرتا اور بکواس کرتا ہے وَکَیْفَ الْفَرَاغَۃ لِلرِّسَالَۃِ حُصِّلَتْ اَلَمْ یَکُ طَنْبُوْرٌ وَّمَا اَنْتَ تَزْمُرُ اور کیونکر رسالہ تالیف کرنے کے لئے فراغت پیدا ہو گئی۔ کیا طنبور اور دوسرے مزامیر تیرے پاس موجود نہ تھے؟ اُوَانِسُ رِجْزَالْکِذْبِ فِیْھَا کَأَنَّہَا کَنِیْفٌ وَقَدْ عَایَنْتُ وَالْعَیْنُ تَقْذُرُ میں جھوٹ کی پلیدی اس رسالہ میں دیکھتا ہوں گویا وہ پاخانہ ہے اور میں نے دیکھا اور آنکھوں نے کراہت کی زَمَانٌ یَسُحُّ الشَّرَّ عَنْ کُلِّ فِیْقَۃٍ وَزَلْزَلَۃٌ اَرْدَی الْاُنَاسَ وَصَرْصَرُ یہ وہ زمانہ ہے کہ وقتاً فوقتاً شر کے بادل سے پانی نکال رہا ہے اور ایک زلزلہ ہے جس نے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور ہوا سخت اور تیز چل رہی ہے فَفِیْؔ ھٰذِہِ الْاَیَّاِم یُطْرَی ابْنُ مَرْیَمٍ مَسِیْحٌ اَضَلَّ بْہِ النَّصَارٰ ی وَ خَسَّرُوْا پس ان دنوں وہ مسیح تعریف کیا جاتا ہے۔ جس کے ساتھ نصاریٰ نے مخلوق کو گمراہ کیا اور ہلاک کیا کَذٰلِکَ فِی الْاِسْلَامِ عَاثَ تَشَیُّعٌ اَبَادُوْا کَثِیْرًا کَاللُّصُوْصِ وَدَمَّرُوْا اسی طرح اسلام میں شیعہ مذہب پھیل گیا ہے۔ چوروں کی طرح بہتوں کو ہلاک کر چکے ہیں نَرٰی شِرْکَھُمْ مِثْلَ النَّصَاریٰ مُخَوِّفًا نَرَی الْجَاھِلِیْنَ تَشَیَّعُوْا وَ تَنَصَّرُوْا ہم ان کے شرک کو نصاریٰ کی طرح خوفناک دیکھتے ہیں۔ ہم جاہلوں کو دیکھتے ہیں کہ شیعہ ہوتے جاتے ہیں اور نصرانی بھی فَتُبْ وَاتَّقِ الْقَھَّارَ رَبَّکَ یَاعَلِیْ وَاِنْ کُنْتَ قَدْ اَزْمَعْتَ حَرْبِیْ فَاَحْضُرُ پس اے علی حائری! تو خدا سے ڈر اور توبہ کر۔ اور اگر تو نے میرے مقابلہ کا قصد کر لیا ہے تو میں حاضر ہوں عَکَفْتُمْ عَلٰی قَبْرِ الْحُسَیِنْ کَمُشْرِکٍ فَلَا ھُوَ نَجَّاکُمْ وَ لَا ھُوَ یَنْصُرُ تم نے مشرکوں کی طرح حسین کی قبر کا اعتکاف کیا۔ پس وہ تمہیں چھڑانہ سکا اور نہ مدد کر سکا اَ لَا رُبَّ یَوْمٍ کَانَ شَاھِدَ عِجْزِکُمْ وَلَا سِیَّمَایَوْمٌ اِذَا الصَّحْبُ خُیِّرُوْا خبردار ہو کہ تمہارے عاجز رہنے کے لئے کئی دن گواہ ہیں۔ خصوصاً وہ دن جب کہ ابوبکر اور عمر اور عثمان خلیفے ہو گئے اور حضرت علی رہ گئے