اَ تَحْسَبُہُؔ اَتْقَی الرِّجَالِ وَ خَیْرَھُمْ فَمَا نَالَکُمْ مِّنْ خَیْرِہِ یَا مُعْذِرُ کیا تواس کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیز گار سمجھتا ہے اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا؟ اے مبالغہ کرنے والے! اَرَاکُمْ کَذَاتِ الْحَیْضِ لَامِثْلَ طَاہِرٍ تَطِیْبُ وَمِنْ مَّاءِ الْعَذَابَۃِ تَطْھَرُ میں تمہیں حیض والی عورت کی طرح دیکھتا ہوں۔ نہ اس عورت کی طرح جو حیض سے پاک ہوتی ہے۔* حَسِبْتُمْ حُسَیْنًا اَکْرَمَ النَّاسِ فِی الْوَرَی وَاَفْضَلَ مَافَطْرَ الْقَدِیْرُ وَ یَفْطُرُ تم نے حسین کو تمام مخلوق سے بہتر سمجھ لیا ہے۔ اور تمام ان لوگوں سے افضل سمجھا ہے جو خدا نے پیدا کئے کَاَنَّ امْرَءً ا فِی النَّاسِ مَاکَانَ غَیْرُہٗ وَ طَھَّرَہُ الرَّحْمَانُ وَالْغَیْرُ یَفْجُرُ گویا لوگوں میں وہی ایک آدمی تھا۔ اور اس کو خدا نے پاک کیا اور غیر ناپاک ہیں وَ ھٰذَا ھُوَ الْقَوْلُ الَّذِیْ فِی ابْنِ مَرْیَمٍ یَقُوْلُ النَّصَارٰی اَیُّہَا الْمُتَنَصِّرُ اور یہ تو وہی قول ہے جو حضرت عیسیٰ کی نسبت نصاریٰ کہا کرتے ہیں۔ اے نصاریٰ سے مشابہ! فَیَاعَجَبًا کَیْفَ الْقُلُوْبُ تَشَابَہَتْ فَکَادَ السَّمَا مِنْ قَوْلِکُمْ تَتَفَطَّرُ پس تعجب ہے کہ کیونکر دل باہم مشابہ ہو گئے۔ پس نزدیک ہے کہ آسمان ان کی باتوں سے پھٹ جائیں اَ تُطْرِءُ عَبْدًا مِّثْلَ عِیْسٰی وَتَنْحِتُ لَہُُُُ رُتْبَۃً کَالْاَنْبِیَاءِ وَ تَہْذُرُ کیا تو عیسیٰ کی طرح ایک بندہ کی حد سے زیادہ تعریف کرتا ہے۔ اور اس کے لئے انبیاء کا رتبہ قرار دیتا ہے اَ لَا لَیْتَ شِعْرِیْ ھَلْ رَأَیْتَ مَقَامَہُ کَمِثْلِ بَصِیْرٍ اَوْ عَلَی الظَّنِّ تَعْمُرُ کاش تجھے سمجھ ہوتی۔ کیا تو نے اس کا مقام دیکھ لیا ہے۔ یا ساری عمارت ظنّ پر ہے اَ تُعْلِیْہِ اِطْرَاءً وَّ کِذْبًا وَّ فِرْیَۃً اَتَسْقِیْہِ کَأْسًا مَاسَقَاہُُ الْمُقَدِّرُ کیا تو اس کو محض جھوٹ اور افترا کی راہ سے بلند کرنا چاہتا ہے کیا تو اس کو وہ پیالہ پلاتا ہے جو خدا نے اس کو نہیں پلایا * دوسرے مصرع کے تحت جو عبارت ہے وہ پہلے مصرع ہی کا ترجمہ ہے۔ کاتب سے سہواً دوسرے مصرع کا ترجمہ رہ گیا ہے جو یہ ہے۔’’وہ خوشبو لگائے ہو اور حیض کے بعد اس کے رحم سے پانی آنا بھی ختم ہو کر اس سے بھی پاک ہو چکی ہو۔ (شمس)