جس وحی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اُسی وحی نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں بتلائی ہیں جو دُنیا پر ظاہر ہو چکیں لَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰہِ وَلا تََسْءَمْ مِنَ النَّاسِ ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۴۲۔ ترجمہ: خلق اللہ تیری طرف رجوع کرے گی سو تجھے چاہئے کہ تُو اُن سے منہ نہ پھیرے اور نہ ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک جائے۔ اس الہام میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ لوگ فوج در فوج تیرے پاس آئیں گے اور اس قدر آئیں گے کہ انسان بمقتضائے بشریّت ان کی متواتر ملاقاتوں سے ملول ہو سکتا ہے اور اُن کے ہجوم سے تھک سکتا ہے کیونکہ بہت کثرت ہو گی۔ سو تُو ایسا مت کرنا اور کثرت مخلوقات سے گھبرانا مت۔ اب جس حد تک کوئی انسان چاہے ثابت کر لے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ میں جس کو بیس بائیس برس گذر گئے لوگوں کا میری طرف رجوع نہ تھا بلکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں تھا جن کا دنیا میں کچھ ذکر کیا جاتا ۔ پس خدا کا یہ فرمانا کہ تم نے کثرت خلق اللہ کو دیکھ کر تھکنا مت۔ یہ خبر پورے بیس برس بعد اس پیشگوئی کے ظہور میں آئی یعنی حال میں جب کہ ہزار ہا لوگ قادیان میں آنے لگے اور آرہے ہیں۔ اصحاب الصُّفۃ وما ادراک مااصحاب الصُّفۃ۔ ترٰی اعینھم تفیض من الدمع۔ یصلّون علیک۔ ربّنا اننا سمعنا ان تمام پیشگوئیوں کا گواہ ناطق براہین احمدیّہ ہے اور اس قصہ کو تمام لوگ اس گاؤں اور گردو نواح کے جانتے ہیں کہ جس زمانہ کی یہ پیشگوئیاں ہیں اس زمانہ میں میری شہرت کا نام و نشان نہ تھا اور پنجاب کے لوگ بآسانی