میںؔ اکمل اور اتم طور پر یہ نمونہ دکھایا ان واقعات سے تعجب نہیں کرنا چاہئے بلکہ در حقیقت انسان کی نجات اسی پر موقوف ہے کہ یا تو وہ خود ایسا شخص ہو جو براہ راست خدا تعالیٰ سے شرف مکالمہ اور مخاطبت رکھتا ہو مگر ایسا مکالمہ مخاطبہ نہ ہو کہ جس میں قطعی فیصلہ نہ ہو کہ وہ رحمانی ہے یا شیطانی ہے اور یا وہ شخص نجات پا سکتا ہے جو ایسے شخص کا ہم صحبت اور اس کے دامن سے وابستہ ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جس قدر دنیا میں گناہ پیدا ہوئے ہیں ان کی یہی وجہ ہے کہ جس قدر انسان کو دنیا کی لذّات اور دنیا کی عزّت اور دنیا کے مال و متاع پر یقین ہے یہ یقین آخرت پر نہیں ہے اور جیسا کہ وہ ایک ایسے صندوق پر توکل کر سکتا ہے جو قیمتی جواہرات اورخالص سونے سے بھر ا ہوا ہے اور اس کے قبضے میں ہے ایسا وہ خدا پر توکل نہیں کر سکتا۔ اور جیسا کہ دنیا کی گورنمنٹ اور دنیا کے حکام سے لوگ ڈرتے ہیں اور مداہنہ سے زندگی بسر کرتے ہیں ایسا خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ اس کا کیا سبب ہے؟ یہی سبب ہے کہ دنیا کے پیش افتادہ اسباب اور وسائل ان کی نظر میں ایسے یقینی ہیں کہ دینی عقائد ان کے آگے کچھ بھی چیز نہیں۔ اب اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چونکہ نجات بجز حق الیقین کے ممکن نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۱؂ یعنی کہ جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا بلکہ اس سے بھی بد تر۔ تو بغیر یقین کامل کے کیونکر نجات ہو۔ اور اگر ایک مذہب کی پابندی سے نجات نہیں تو اس مذہب سے حاصل کیا۔ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم کے زمانہ میں تو یقین کے چشمے جاری تھے اور وہ خدائی نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور انہیں نشانوں کے ذریعہ سے خدا کے کلام پر انہیں یقین ہو گیاتھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہو گئی تھی۔ لیکن بعد میں جب وہ زمانہ جاتا رہا اور اس زمانہ پر صد ہا سال گذر گئے تو پھر ذریعہ یقین کا کون سا تھا۔ سچ ہے کہ قرآن شریف ان کے پاس تھا اور قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئیایک