حملوںؔ سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو ضرور ہے کہ یہ زمانہ گذر نہ جائے اور ہم اس دنیا سے کوچ نہ کریں جب تک خدا کے وہ تمام وعدے پورے نہ ہوں۔ جو شخص تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس سے بے خبر ہے کہ خدا کا یقینی اور قطعی کلام بھی اس کے بندوں پر نازل ہوا کرتا ہے وہ خدا کے وجود سے ہی بے خبر ہے لہٰذا وہ اپنی طرح تمام دنیا کو وساوس کے نیچے پامال دیکھتا ہے اور اس کا یہی عقیدہ ہوتا ہے کہ بجز وساوس اور اضغاث احلام اور حدیث النفس کے اور کچھ نہیں اور غایت کار وہ ظنی طور پر نہ یقینی اور قطعی طور پر الہام الٰہی کا خیال دل میں لاتا ہے مگر ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ جس دل پر در حقیقت آفتاب وحی الٰہی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔ کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔ پھر جس حالت میں موسیٰ کی ماں کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر پورا یقین رکھ کر اس نے اپنے بچہ کو معرضِ ہلاکت میں ڈال دیا اور خدا تعالیٰ کے نزدیک بجرم اقدام قتل مجرم نہ ہوئی تو کیا یہ امت اسرائیل کے خاندان کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہے اور پھر اسی طرح مریم کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر بھروسہ کر کے اس نے قوم کی کچھ پرواہ نہیں کی توحیف ہے اس امت مخذول پر جو ان عورتوں سے بھی کم تر ہے۔ پس اس صورت میں یہ امت خیر الامم کا ہے کو ہوئی بلکہ شرالامم اور اجھل الامم ہوئی۔ اسی طرح خضر جو نبی نہیں تھا اور اسے علم لدُنّی دیا گیا تو کیا اگر اس کا الہام ظنی تھا یقینی نہیں تھا تو کیوں اس نے ایک ناحق بچہ کو قتل کر دیا۔ اور اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ الہام کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو غسل دینا چاہئے یقینی اور قطعی نہ تھا تو کیوں انہوں نے اس پر عمل کیا۔ پس اگر ایک شخص اپنی نابینائی سے میری وحی سے منکر ہے تا ہم اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پوشیدہ دہریّہ نہیں تو اس کے ایمان میں یہ بات داخل ہونی چاہئے کہ یقینی قطعی مکالمہ الٰہیہ ہو سکتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی یقینی پہلی امتوں میں اکثر مردوں اور عورتوں کو ہوتی رہی ہے اور وہ نبی بھی نہ تھے اس امت میں بھی اس یقینی اور قطعی وحی کا وجود ضروری ہے۔ تا یہ امت بجائے افضل الامم ہونے کے احقر الامم نہ ٹھہر جائے۔ سو خدا نے آخری زمانہ