قابلؔ اعتراض ٹھہرے گا۔ ایسا ہی اُدباء کو یہ اتفاق بھی پیش آجاتا ہے کہ گو بیس شخص ایک مضمون کے ہی لکھنے والے ہوں جو بیس ہی ادیب اور بلیغ ہوں مگر بعض صورتوں کے ادائے بیان میں ایک ہی الفاظ اور ترکیب کے فقرہ پر اُن کا توارد ہوجائے گا اور یہ باتیں ادباء کے نزدیک مسلّمات میں سے ہیں جن میں کسی کو کلام نہیں ا ور اگر غور کرکے دیکھو تو ہر ایک زبان کا یہی حال ہے اگر اُردو میں بھی مثلاً ایک فصیح شخص تقریر کرتا ہے اور اُس میں کہیں مثالیں لاتا ہے کہیں دلچسپ فقرے بیان کرتا ہے تو دُوسرا فصیح بھی اُسی رنگ میں کہہ دیتا ہے اور بجُز ایک پاگل آدمی کے کوئی خیال نہیں کرتا کہ یہ سرقہ ہے انسان تو انسان خدا کے کلام میں بھی یہی پایا جاتا ہے۔ اگر بعض پُر فصاحت فقرے اور مثالیں جو قرآن شریف میں موجود ہیں شعرائے جاہلیت کے قصائد میں دیکھی جائیں تو ایک لمبی فہرست طیّار ہو گی اور ان امور کو محققین نے جائے اعتراض نہیں سمجھا بلکہ اسی غرض سے ائمہ راشدین نے جاہلیت کے ہزارہا اشعار کو حفظ کر رکھا تھا اور قرآن شریف کی بلاغت فصاحت کے لئے ان کوبطور سند لاتے تھے۔ یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ مَیں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتاہوں کیونکہ جب مَیں عربی میں یا اُردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو مَیں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اُردو یا فارسی دو حصّہ پرمنقسم ہوتی ہے۔ (۱) ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلہ الفاظ اور معانی کا میرے سامنے آتا جاتا ہے اور مَیں اُس کو لکھتا جاتا ہوں اور گو اُس تحریر میں مجھے کوئی مشقّت اُٹھانی نہیں پڑتی مگر دراصل وہ سلسلہ میری دماغی طاقت سے کچھ زیادہ نہیں ہوتا یعنی الفاظ اور معانی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ایک خاص رنگ میں تائید نہ ہوتی تب بھی اس کے فضل کے ساتھ ممکن تھا کہ اس کی معمولی تائید کی برکت سے جو لازمہ فطرت خواص انسانی ہے کسی قدر مشقت اُٹھا کر اور بہت سا وقت لے کر اُن مضامین کو مَیں لکھ سکتا۔ واﷲ اعلم۔ (۲) دوسرا حصہ میری تحریر کا محض خارق عادت کے طور پر ہے * اور وہ یہ ہے کہ جب مَیں مثلاً ایک عربی عبارت * جیسا کہ بارہا بعض امراض کے علاج کے لئے مجھے بعض ادویہ بذریعہ وحی معلوم ہوئی ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ پہلے مجھ سے جالینوس کی کتاب میں لکھی گئی ہیں یا بقراط کی کتاب میں۔ایسا ہی میری انشاء پردازی کا حال ہے۔ جو عبارتیں تائید کے طور پر مجھے خدائے تعالیٰ سے معلوم ہوتی ہیں مجھے اُن میں کچھ بھی پروا نہیں کہ وہ کسی اور کتاب میں ہوں گی بلکہ وہ میرے لئے اور ہر یک کے لئے جو میرے حال سے واقف ہو معجزہ ہے اور اگر کسی کے نزدیک معجزہ نہ ہو تو اس پر پانی پینا حرام ہے جب تک بالمواجہ بیٹھ کر بپابندی شرائط مشتہرہ مقابلہ نہ کرے۔ منہ