حریرؔ ی یا ہمدانی کے کسی فقرہ سے توارد تھا۔ افسوس کہ اُن کو اس اعتراض کے کرتے ہوئے ذرہ شرم نہیں آئی اور ذرہ خیال نہیں کیا کہ اگر ان قلیل اور دو چار فقروں کو توارد نہ سمجھا جائے جیسا کہ ادیبوں کے کلام میں ہوا کرتا ہے اور یہ خیال کیا جائے کہ یہ چند فقرے بطور اقتباس کے لکھے گئے تو اس میں کون سا اعتراض پیدا ہو سکتا ہے خود حریری کی کتاب میں بعض آیات قرآنی بطور اقتباس موجود ہیں ایسا ہی چند عبارات اور اشعار دوسروں کے بغیر تغییر تبدیل کے اس میں پائے جاتے ہیں اور بعض عبارتیں ابوالفضل بدیع الزمان کی اس میں بعینہٖ ملتی ہیں تو کیا اب یہ رائے ظاہر کی جائے کہ مقامات حریری سب کی سب مسروقہ ہے بلکہ بعض نے تو ابو القاسم حریری پر یہاں تک بدظنی کی ہے کہ اس کی ساری کتاب ہی کسی غیر کی تالیف ٹھہرائی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ایک دفعہ فن انشاء میں کامل سمجھ کر ایک امیر کے پاس پیش کیا گیا اور امتحاناً حکم ہوا کہ ایک اظہار کو عربی فصیح بلیغ میں لکھے مگر وہ لِکھ نہ سکا اور یہ امر اُس کے لئے بڑی شرمندگی کا موجب ہوا مگر تاہم وہ اُدباء میں بڑی عظمت کے ساتھ شمار کیا گیا اور اُس کی مقامات حریری بڑی عزّت کے ساتھ دیکھی جاتی ہے حالانکہ وہ کسی دینی یا علمی خدمت کے لئے کام نہیں آ سکتی کیونکہ حریری اِس بات پر قادر نہیں ہو سکا کہ کسی سچے اور واقعی قصہ یا معارف اور حقائق کے اسرار کو بلیغ فصیح عبارت میں قلمبند کرکے یہ ثابت کرتا کہ وہ الفاظ کو معانی کا تابع کر سکتا ہے۔ بلکہ اُس نے اوّل سے آخر تک معانی کو الفاظ کا تابع کیا ہے جس سے ثابت ہوا کہ وہ ہرگز اس بات پر قادر نہ تھا کہ واقعہ صحیحہ کا نقشہ عربی فصیح بلیغ میں لکھ سکے لہٰذا ایسا شخص جس کو معانی سے غرض ہے اور معارف حقائق کا بیان کرنا اُس کا مقصد ہے وہ حریری کی جمع کردہ ہڈیوں سے کوئی مغز حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ کسی کے کلام کا اتفاقاً خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض فقرات میں کسی سے توارد ہو جائے کیونکہ بعض محاورات ادبیّہ کا کوچہ ایسا تنگ ہے کہ یا تو اُس میں بعض اُدباء کو بعض سے توارد ہو گا اور یا ایک شخص ایک ایسے محاورہ کو ترک کرے گا جو واجب الاستعمال ہے ظاہر ہے کہ جس مقام پر خصوصیات بلاغت کے لحاظ سے ایک جگہ پر مثلاً اقتحمکا لفظ اختیار کرنا ہے نہ اور کوئی لفظ تو اس لفظ پر تمام اُدباء کا بالضرور توارد ہو جائے گا اور ہر ایک کے مُنہ سے یہی لفظ نکلے گا۔ ہاں ایک جاہل غبی جو اسالیب بلاغت سے بے خبر اور فروق مفردات سے ناواقف ہے وہ اس کی جگہ پر کوئی اور لفظ بول جائے گا اور اُدباء کے نزدیک