لکھؔ دیا ہے اور اس کتاب کے پہنچنے سے پہلے ہی مجھ کو یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ اعجاز المسیح کے مقابل پر وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں مگر مجھ کو یہ امید نہ تھی کہ وہ میری عربی کتاب کا جواب اُردو میں لکھیں گے بلکہ مجھے یہ خیال تھا کہ چونکہ اکثر باسمجھ لوگوں نے پیر صاحب کی اس مکارانہ کارروائی کو پسند نہیں کیا
سنیئےؔ رسُول خدا نے تو یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے بعد بہت کذّاب پیدا ہوں گے اور جھوٹی حدیثیں میرے نام سے روایت کریں گے پس تم کو لازم ہے کہ اس وقت حدیث کو کتاب اﷲ پر عرض کرو اگر موافق ہو تو لے لو ورنہ ترک کرو۔پھر ہم بغیر اس معیار کے کسی حدیث کو کیونکر صحیح سمجھ سکتے ہیں جبکہ خود آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ معیار تصحیح حدیث بتلا دیا ہے۔ اور مولٰنا صاحب نے بھی اس حدیث کو اپنے کسی رسالہ میں ذکر کیا ہوا ہے۔ پس یہ بات کہ جو حدیث کسی کتاب میں لکھی ہو وہ درحقیقت حدیث رسول ہو گی امر مسلّم نہ رہا بلکہ جو حدیث مطابق کتاب اﷲ ہو گی وہ حدیث رسول ہو گی۔ دیکھیں اصول کافی کتاب العلم امام جعفر علیہ السلام فرماتے ہیں۔ فما وافق کتاب اﷲ فخذوہ وما خالف فدعوہ، کل حدیث لایوافق کتاب اﷲ فھو زخرف۔ اصولؔ کافی کے دیباچہ ہی میں نظر کریں کہ ہمارے شیخ المحدثین اپنے شیعوں کی احادیث کی نسبت کیا تحریر فرماتے ہیں۔ طُرفہ بریں یہ کہ آپ تو ان علماء پر جن کی روایات آپ نے پیش کی ہیں تبرّا بھیجتے ہیں۔ پھر اُن سے حجت پکڑنا چہ معنی دارد۔ دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو آپ میرزا صاحب کے اصول سے بکلّی ناواقف ہیں یا عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اب آخری فیصلہ بھی ذرہ سُن لیں۔ غایۃ المقصود حصّہ اوّل صفحہ ۱۰ سطر ۹ ملاحظہ ہو۔ جناب مولانا صاحب نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ (نبوت افضل از امامت است قطعاً) اس جگہ امام حسین خود واقعی امام تھے ان کی نسبت کوئی استثناء ذکر نہیں فرمایا گیا پھر کس طرح یہ بات کہی جاتی ہے کہ امام حسینؑ افضل ہیں سب انبیاء سے بغیر آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے۔
خاکسار
نذر علی از پشاور ۱۹۰۲ ء