کِتاؔ ب سیف چشتیائی
یہ کتاب مجھ کو یکم جولائی ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ڈاک ملی ہے جس کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے شاید اس غرض سے بھیجا ہے کہ تا وہ اِس بات سے اطلاع دیں کہ انہوں نے میری کتاب اعجاز المسیح اور نیز شمس بازغہ کا جواب
دیکھؔ کر سمجھ بھی لیا کہ یہ حسین یا پنجتن پاک میرے سے چھ ہزار سال بعد پَیدا ہوں گے کِس نے اُن کے دل میں القاء کیا اور القاء کرنے کا ذکر قرآن میں کہاں ہے قرآن مجید میں تو صاف ہے اور ایک لطیف بیان اپنے اندر رکھتا ہے۔ دیکھو جہاں اسماء کی تعلیم کا ذکر ہے۔ وہاں اﷲ جلّ شانہٗ نے صاف فرمایا ہے کہ ۱ ۲ ۳ مگر اس جگہتو۴ صاف ہے۔ دُوسرے موقعہ پر یعنی حضرت آدم کے قصّہ میں قرآن شریف نے کلمات کی تفسیر کر دی ہے۔ سورۃ اعراف الخ۵ اب جس کی تصریح خود قرآن کریم نے کردی ہو نہ کنایہ اور اشارہ سے بلکہ صاف الفاظ میں، اور کچھ ابہام اور شک بھی باقی نہ رہتا ہو ، پھر ایسے معقول استدلال قرآنی کو چھوڑ کر آپ کے یا برغانی کے زعم کی پیروی کون عقلمند کرسکتا ہے۔
(میاں) سید علی ہمدانی اور طبرانی نے لکھا ہے اپنی اپنی کتابوں میں ۔ اے مدعی علم و تحقیق کیا یہ لوگ معصوم تھے کہ جو کچھ انہوں نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے واجب الاخذ ہے یا اُن پر وحی نازل ہوتی تھی یا حضرت آدم خواب میں آ کر ان کو بتلا گئے تھے کہ ابتلا کے وقت مَیں نے یہ نام لئے تھے۔ (أ کنتم شہداء ام علی اﷲ تفترون) وہ سینکڑوں سالوں کے بعد زمانہ میں ہو کر رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا ہے اور منقولی روایت جس کی صحت کا کوئی معیار اُن کے پاس نہیں اپنی اپنی کتابوں میں درج کر دی۔