قد تُرک بین خوف ورجاء ۔ ونعمۃ وبلاء ۔ إمّا مشابہۃ بالأنبیاء ۔ وإما شُربٌ من کأس الأشقیاء ۔ فاتقوا اللّٰہ الذی عظُم وعیدہ۔ وجلّت مواعیدہ۔ ومن لم یکن علی ہدی الأنبیاء من فضل اللّٰہ الودود۔ فقد خیف علیہ أن یکون کالنصاری اوالیہود۔ فاشتدت الحاجۃ إلی نموذج النبیین والمرسلین۔ لیدفع نورہم ظلمات المغضوب علیہم وشبہات الضالین۔ ولذالک وجب ظہور المسیح الموعود فی ہذا الزمان من ہذہ الأمّۃ۔ لأنّ الضالین قد کثروا فاقتضت المسیحَ ضرورۃُ المقابلۃ۔ وإنکم ترون أفواجًا من القسیسین الذین ہم الضالون۔ فأین المسیح گذاشتہ شد در خوف و رجا۔ و نعمت و بلا۔ یا مشابہ بہ پیغمبران است و یا نوشیدن است از جام بدبختاں۔ پس ازاں خدا بترسید کہ وعید او بزرگ است و وعدہ ہائے او نیز بزرگ اند۔ و ہر کہ بر ہدایت انبیاء نباشد۔ پس خوف است کہ ہمچو یہود و نصاریٰ باشد۔ پس سخت شد حاجت سوئے نمونہ انبیاء و مُرسلاں تا کہ نور او شاں تاریکی یہود و نصاریٰ دور کند و از بہر ہمیں واجب شد ظہور مسیح موعود دریں زمانہ ازیں امت۔ زیرانکہ ضالین بسیار شدہ اند پس ضرورت مقابلہ مسیح را بخواست۔ و شما مے بینید فوج ہا از علماء نصاریٰ کہ ہماں فرقہ ضالہ است۔ پس کجا ست آں مسیح