کوئی بھی زندہ نبی موجود نہیں اور حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مردہ سمجھتے ہیں مگر مسیح کو ایسا زندہ کہ خدا تعالیٰ کے پاس بیٹھا ہوا خیال کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ لوگ بھی حضرت عیسیٰ کو زندہ کہہ کر اور قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ کو خاک میں پھینک کر نصاریٰ سے ہاں میں ہاں ملا رہے ہو۔ اب سوچ لو کہ اس حالت میں اُمت محمدیہ پر کیا اثر پڑے گا؟ تم نے تو اپنے مُنہ سے اپنے تئیں لاجواب کر دیا اور کچے عذر تو اور بھی مخالف کی بات کو قوت دیتے ہیں۔ غرض تمہارے لاجواب ہو جانے سے ہزاروں انسان مر گئے اور مسجدیں خالی ہو گئیں اور نصاریٰ کے گر جا بھر گئے۔ اے رحم کے لائق مولویو! کبھی تو مسجدوں کے حجروں سے نکل کر اس انقلاب پر نظر ڈالو جو اسلام پر آگیا۔ خود غرضی کو دُور کیجئے۔ برائے خدا ایک نظر دیکھئے کہ اسلام کی کیا حالت ہے خدانے جو مجھے بھیجا اور یہ امور مجھے سکھلائے یہی آسمانی حربہ ہے جس کے بغیرؔ باطل کا دفع کرنا ممکن ہی نہیں۔ اب ہر ایک مرتد کا گناہ آپ لوگوں کی گردن پر ہے۔ جب آپ لوگ ہی قبول کریں کہ حضرت مسیح زندہ رسول اور حضرت خاتم الانبیاء مردہ رسول ہیں تو پھر لوگ مرتد ہوں یا نہ ہوں؟ پھر فرض کے طور پر اگر یہ واقعہ دوبارہ دنیا میں آنے کا صحیح تھا تو کیا وجہ کہ آپ لوگ اِس کی کوئی نظیر نہیں پیش کر سکتے۔ بغیر نظیر کے تو ایسی خصوصیت سے شرک کو قوت ملتی ہے اور ہر گز خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے ظاہر ہے کہ نصاریٰ کو ملزم کرنے کے لئے صرف ایلیا نبی کے آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے کی نظیر ہو سکتی تھی اور بے شک اس نظیر سے کچھ کام بن سکتا تھا۔ لیکن ان معنوں کو تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آ پ ہی ردّ کردیا اور فرمایا کہ ایلیا سے مُراد یوحنّا نبی ہے جو اس کی خو اور طبیعت پر آیا ہے۔ اب تک یہودی شور مچا رہے ہیں کہ ملا کی نبی کی کتاب میں ایلیا کے دوبارہ آنے کی صاف اور صریح لفظوں میں خبر دی گئی تھی کہ وہ مسیح سے پہلے آئے گا مگر حضرت مسیح نے ناحق اپنے تئیں سچا مسیح بنانے کے لئے اِس کھلے کھلے نص کی تاویل کر دی اور اس تاویل میں وہ متفرد ہیں کسی