بھی نہیں دیکھا تھا ان میں سے کچھ نہ کھایا یہاں تک کہ بھوک سے مر گیا اور اس لئے نہ کھایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ اُن کھانوں سے چُھو گئے تھے۔ اسی طرح اِن لوگوں کا حال ہے کہ جن دلائل قاطعہ کو اُن کے خیال میں میرے ہاتھوں نے چھوا اُن سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتے۔ مگر میں بار بار کہتا ہوں کہ ہندو مت بنو یہ دلائل میرے نہیں ہیں اور نہ میرے ہاتھ ان کو چھوئے ہیں بلکہ یہ تو سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں شوق سے ان کو استعمال کرو۔ دیکھو کس قدر نصوص قرآنیہ حضرت مسیح کی وفات پر گواہی دے رہی ہیں۔ نصوص حدیثیہ گواہی دے رہی ہیں صحابہ کا اجماع گواہی دے رہا ہے۔ ائمہ اربعہ کی شہادت گواہی دے رہی ہے۔ سنتِ قدیمہ جو مؤید بآیت3 ۱؂ ہے گواہی دے رہی ہے پھر بھی اگر نہ مانو تو سخت بد نصیبی ہے۔ قرآن اور حدیث اور اجماع صحابہ اور نظیر سنتِ قدیمہ کے بعد کونسا شک باقی ہے۔ افسوس یہ بھی نہیں سوچتے کہ دوبارہ نزول کا مقدمہ حضرت مسیح کی عدالت سے پہلے فیصلہ پا چکا ہے اور ڈگری ہماری تائید میں ہوئی ہے۔ اور حضرت مسیح نے یہودیوں کے اس خیال کو کہ ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا ردّ کر دیا ہے اور مجاز اور استعارہ کے طور پر اس پیشگوئی کو قرار دے دیا ہے اور مصداق ایلیا کا حضرت یوحنا یعنی یحیٰی کو ٹھہرایا ہے۔ دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ فیصلہ کس قدر تمہارے مسئلہ متنازعہ فیہ کو صاف کر رہا ہے سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اُس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔ بھلا بتلاؤ کہ مثلاً دو فریق میں ایک امر متنازعہ فیہ ہے اور منجملہ ان کے ایک فریق نے اپنی تائید میں ایک نبی معصوم کے فیصلہ کی نظیر پیش کر دی ہے اور دوسرا نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اب ان دونوں میں سے احقّ بالا من کون ہے؟ بیّنوا توجروا۔ یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ بجز خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتے ہیں تا کسی نبی کی کوئی خصوصیت منجر بہ شرک نہ ہو جائے۔ اب بتلاؤ کہ ایک طرف تو نصاریٰ حضرت مسیح کی اس قدر لمبی زندگی کو اُن کی خدائی پر دلیل ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب دنیا میں بجز اُن کے