او ر صحابہ نے ترک مقابلہ اور تسلیم کا طریق اختیار کرکے ثابت کر دیا کہ یہ آیت موت مسیح اور تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام پر قطعی دلیل ہے اور اس پر تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا ایک فرد بھی باہر نہ رہا جیسا کہ میں نے اس بات کو مفصّل طور پر رسالہ تحفہ غزنویہ میں لکھ دیا ہے پھر اس کے بعد تیرہ سو برس تک کبھی کسی مجتہد اور مقبول امام پیشوائے انام نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں بلکہ امام مالک نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں اور امام ابن حزم نے صاف شہادت دی کہ فوت ہو گئے ہیں۔ اور تمام کامل مکمل ملہمین میں سے کبھی کسی نے یہ الہام نہ سُنایا کہ خدا کا یہ کلام میرے پر نازل ہوا ہے کہ عیسیٰ بن مریم بر خلاف تمام نبیوں کے زندہ آسمان پر موجود ہے۔ الغرض جبکہ میں نے نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ اور اقوال ائمہ اربعہ اور وحی اولیاءِ اُمت محمدیہ اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم میں بجز موت مسیح کے اور کچھ نہ پایا تو بنظرِ تکمیل لوازم تقویٰ انبیاءِ سابقین علیہم السلام کے قصص کی طرف دیکھا کہ کیا قرون گذشتہ میں اس کی کوئی نظیر بھی موجود ہے کہ کوئی آسمان پر چلا گیا ہو اور دوبارہ واپس آیا ہوتو معلوم ہوا کہ حضرت آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی نظیر نہیں جیسا کہ قرآن شریف بھی آیت 33 ۱ میں اسی کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ یعنی جب کفار بد بخت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اقتراحی معجزہ مانگا کہ ہم تب تجھے قبول کریں گے کہ جب ہمارے دیکھتے دیکھتے آسمان پر چڑھ جائے اور دیکھتے دیکھتے اُتر آوے تو آپ کو حکم آیا کہ 3 ۲ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنی سنّتِ قدیمہ اور دائمی قانونِ قدرت کے برخلاف کوئی بات کرے میں تو صرف رسول اور انسان ہوں اور جس قدر رسول دنیا میں آئے ہیں اُن میں سے کسی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہوئی کہ اس کو بجسم عنصری آسمان پر لے گیا ہو اور پھر آسمان سے اتارا ہواور اگر عادت ہے تو تم خود ہی اس کا ثبوت دو کہ فلاں نبی بجسم عنصری آسمان پر اٹھایا گیا تھا اور پھر اتاراگیا۔ تب میں بھی آسمان پر جاؤں گا اور تمہارے روبرو اُتروں گا۔