اب دیکھو اگر کوئی آسمان پر جاکر بھی کچھ حصہ زندگی کا بسر کر سکتا ہے تو اس سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اِسی کی مؤید ہے یہی دوسری آیت کہ3 ۱ یعنی تمہارا قرار گاہ زمین ہی رہے گی۔ اب اِس سے زیادہ خدا تعالیٰ کیا بیان فرماتا؟ پھر ایک اور آیت حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ 3 ۲ یعنی حضرت مسیح اور حضرت مریم جب زندہ تھے تو روٹی کھایا کرتے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر ترکِ طعام کی دو وجہیں ہوتیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر علیحدہ علیحدہ کر دیتا کہ مریم تو بوجہ فوت ہونے کے طعام سے مہجور ہو گئی اور عیسیٰ کسی اور وجہ سے کھانا چھوڑ بیٹھا بلکہ دونوں کو ایک ہی آیت میں شامل کرنا اتحاد امر واقعہ پر دلیل ہے تامعلوم ہو کہ دونوں مر گئے۔ پھر ایک اور آیت حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ 3 3۳ یعنی خدانے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھتا رہوں اور زکوٰۃ دوں۔ اب بتلاؤ کہ آسمان پر وہ زکوٰۃ کس کو دیتے ہیں؟ اور پھر ایک اور آیت ہے ؔ جو بڑی صراحت سے حضرت عیسیٰ کی موت پر دلالت کر رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ 3۴ یعنی جس قدر باطل معبودوں کی لوگ زمانۂ حال میں پرستش کر رہے ہیں وہ سب مر چکے ہیں اُن میں (سے) کوئی زندہ باقی نہیں۔ اب بتلاؤ کیا اب بھی کچھ خدا کا خوف پیدا ہوا یا نہیں؟ یا نعوذ باللہ خدا نے غلطی کی جو سب باطل معبودوں کو مُردہ قرار دیا۔ اور پھر ان سب کے بعد وہ عظیم الشان آیت ہے جس پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوا اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابی نے اس بات کو مان لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کل گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں اور وہ یہ آیت ہے۔ 333333۵۔اس جگہ خلت کے معنے خدا تعالیٰ نے آپ فرما دیئے کہ موت یا قتل۔ پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے محلِّ استدلال میں جمیع انبیاءِ گذشتہ کی موت پر اس آیت کو پیش کرکے