نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ مسیح موعود کی طرف سے اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آگیا مسیح جو دیں کا امام* ہے دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے * نوٹ:۔ (ایک زبردست الہام اور کشف) آج ۲؍ جون ۱۹۰۰ء ؁ کو بروز شنبہ بعد دوپہر دو ۲ بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا دکھلایا گیا۔ اس کی آخری سطر میں لکھا تھا اقبال۔ میں خیال کرتا ہوں کہؔ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا یعنی انجام باقبال ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ الہام ہوا:۔ ’’قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے۔ کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے۔‘‘ اِس کے یہ معنے مجھے سمجھائے گئے کہ عنقریب کچھ ایسے زبردست نشان ظاہر ہو جائیں گے جس سے کافر کہنے والے جو مجھے کافر کہتے تھے الزام میں پھنس جائیں گے اور خوب پکڑے جائیں گے اور کوئی گریز کی جگہ اُن کے لئے باقی نہیں رہے گی۔ یہ پیشگوئی ہے۔ ہر ایک پڑھنے والا اس کو یادرکھے۔ اس کے بعد ۳؍جون ۱۹۰۰ء ؁ کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے یہ الہام ہوا:۔ کافر جو کہتے تھے وہ نگو نسار ہو گئے ۔جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے۔‘‘ یعنی کافر کہنے والوں پر خدا کی حجت ایسی پوری ہو گئی کہ اُن کے لئے کوئی عذر کی جگہ نہ رہی۔ یہ آئندہ زمانہ کی خبر ہے کہ عنقریب ایسا ہوگا اور کوئی ایسی چمکتی ہوئی دلیل ظاہر ہو جائے گی کہ فیصلہ کر دے گی۔ منہ