سخت گوئی طبیعت پر غالب آجائے) خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اگر مسیح ناصری کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جگہ اُس سے برکات کم نہیں ہیں۔ اور مجھے آگ سے مت ڈراؤ کیونکہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ (یہ فقرہ بطور حکایت میری طرف سے خداتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے) اور پھر فرمایا۔ لوگ آئے اور دعویٰ کر بیٹھے شیر خدا نے اُن کو پکڑا شیر خدا نے فتح پائی۔ اور پھر فرمایا ’’بخرام کہ ؔ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یان برمنار بلندترمحکم* اُفتاد۔ پاک محمدمصطفٰے نبیوں کا سردار۔ و روشن شد نشانہائے من۔ بڑا مبارک وہ دن ہوگا ۔دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘ آمین
اِس فقرہ سے مراد کہ محمدیوں کا پیر اونچے منار پر جاپڑا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں جو آخر الزمان کے مسیح موعود کے لئے تھیں جس کی نسبت یہود کا خیال تھا کہ ہم میں سے پیدا ہو گا اور عیسائیوں کا خیال تھا کہ ہم میں سے پیدا ہوگا۔مگر وہ مسلمانوں میں سے پیدا ہوا۔ اس لئے بلند مینار عزت کا محمدیوں کے حصہ میں آیا اور اس جگہ محمدی کہا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ اب تک صرف ظاہری قوت اور شوکت اسلام دیکھ رہے تھے جس کا اسم محمد مظہر ہے اب وہ لوگ بکثرت آسمانی نشان پائیں گے جو اسم احمدکے مظہر کو لازم حال ہے۔ کیونکہ اسم احمد انکسار اور فروتنی اور کمال درجہ کی محویت کو چاہتا ہے جو لازم حال حقیقت احمدیت اور حامدیت اور عاشقیت اور مُحِبّیّت ہے اور حامدیت اور عاشقیت کے لازم حال صدور آیات تائید یہ ہے۔ منہ