کرے۔ عنقریب ہے کہ خدا تم میں اور تمہارے دشمنوں میں دوستی کردے گا*۔ اور تیرا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اُس روز وہ لوگ سجدہ میں گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے خدا ہمارے گناہ معاف کر ہم خطا پر تھے۔ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا معاف کرے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ میں خدا ہوں میری پرستش کر۔ اور میرے تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا رہ۔ اپنے خدا سے مانگتا رہ اور بہت مانگنے والا ہو۔ خدا دوست اور مہربان ہے۔ اُس نے قرآن سکھلایا۔ پس تم قرآن کو چھوڑ کر کس حدیث پر چلو گے۔ ہم نے اس بندہ پر رحمت نازل کی ہے اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خداکی وحی ہے۔ یہ خدا کے قریب ہوا یعنی اوپر کی طرف گیا اور پھر نیچے کی طرف تبلیغ حق کے لئے جھکا۔ اس لئے یہ دو قوسوں کے وسط میں آگیا۔ اُوپر خدا اور نیچے مخلوق۔ مکذبین کے لئے مجھ کو چھوڑ دے۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے اور تو سیدھی راہ پر ہے اورجو کچھ ہم اُن کے لئے وعدہ کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ تیری زندگی میں تجھ کو دکھلادیں اور یا تجھ کو وفات دیدیں اور بعد میں وہ وعدے پورے کریں۔ اور میں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔ یعنی تیرا رفع الی اللہ دنیا پر ثابت کر دوں گا۔ اور میری مدد تجھے پہنچے گی۔ میں ہوں وہ خداؔ جس کے نشان دلوں پر تسلّط کرتے ہیں اور ان کو قبضہ میں لے آتے ہیں۔ اِن الہامات کے سلسلہ میں بعض اردوالہام بھی ہیں جن میں سے کسی قدر ذیل میں لکھے جاتے ہیں اور وہ یہ ہیں:۔ ایک عزت کا خطاب۔ ایک عزت کا خطاب۔ لک خطاب العزۃ۔ایک